دہلی میں آرام کے بجائے کے سی آر امدادی کاموں کی نگرانی کریں

   

نقصانات کا تخمینہ کرنے میں حکومت ناکام، محمد علی شبیر کا الزام
حیدرآباد۔/27 جولائی، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت ریاست میں بارش اور سیلاب کے نقصانات کا حقیقی تجزیہ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نقصانات کا بنیادی سطح پر پتہ چلانے کیلئے سرکاری مشنری کو متحرک نہیں کیا ہے۔ مرکز کو نقصانات کے بارے میں جو رپورٹ روانہ کی گئی ہے وہ نامکمل ہے۔ 1400 کروڑ کے نقصانات کا اندازہ کیا گیا حالانکہ یہ حقیقی نقصانات کے مطابق نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست کے کئی اضلاع سیلاب اور بارش سے بری طرح متاثر ہوئے اور حقیقی نقصانات کافی زیادہ ہیں۔ ریاست میں گذشتہ دس تا پندرہ دن سے بھاری بارش ہوئی ہے۔ سینکڑوں کالونیاں اور ہزاروں مکانات زیر آب آگئے۔ ہزاروں ایکر پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے سیلاب کے نقصانات کے بارے میں اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور رسمی طور پر بھدراچلم کا دورہ کیا گیا۔ چیف منسٹر نے امدادی کاموں کے سلسلہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد نہیں کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں امدادی کاموں کی نگرانی کے بجائے چیف منسٹر کا دہلی میں قیام مضحکہ خیز ہے۔ انہیں عوام کے نقصانات سے زیادہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کی فکر ہے۔ دہلی میں آرام کرنے کے بجائے چیف منسٹر کو متاثرہ علاقوں میں راحت و بچاؤ کے کاموں کی نگرانی کرنی چاہیئے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر تلنگانہ کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ دیگر ریاستوں کو سیلاب کیلئے فنڈز جاری کئے گئے لیکن تلنگانہ کے متاثرین محروم ہیں۔ر