دہلی کے آقاؤں کے غرور اور تکبر پر منوگوڑ رائے دہندوں کا طمانچہ : کے ٹی آر

   


بدعنوانیوں کے باوجود کامیابی روک نہیں پائے، فرقہ پرستی پر ترقی کو ترجیح

حیدرآباد۔/6 نومبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے کارگذار صدر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے دہلی کے آقاؤں کے منہ پر طمانچہ کی طرح منوگوڑ میں فیصلہ سنانے والے رائے دہندوں سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ رائے دہندوں نے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترقی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی کے بعد تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کامیابی کیلئے بی جے پی نے دہلی کے آقاؤں کی مدد سے بہت کچھ کیا باوجود اس کے ٹی آر ایس کی کامیابی کو روک نہیں پائے۔ دولت اور شراب کی بڑے پیمانے پر تقسیم، ٹی آر ایس قائدین اور کارکنوں پر حملے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کار کے مماثل انتخابی نشانات کی منظوری کے باوجود عوام نے ٹی آر ایس کو کامیابی سے ہمکنار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ منوگوڑ کے عوام نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے تلنگانہ کی عزت نفس کے نعرہ کی لاج رکھ لی ہے۔ انہوں نے پارٹی کی کامیابی میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین، کارکنوں ، سوشیل میڈیا واریئرس سے اظہار تشکر کیا جو مسلسل 40 دن تک انتخابی مہم میں مصروف رہے۔ کے ٹی آر نے سی پی آئی اور سی پی ایم قائدین سے بھی اظہار تشکر کیا جنہوں نے ٹی آر ایس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد متحدہ نلگنڈہ ضلع کے تینوں ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور نلگنڈہ ضلع ٹی آر ایس کے قلعہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منوگوڑ کے رائے دہندوں نے فرقہ پرست، موقع پرست سیاست کے علاوہ غرور اور تکبر کو شکست دی ہے۔ دہلی کے آقاؤں نریندر مودی، امیت شاہ کے غرور اور تکبر پر عوام نے طمانچہ رسید کیا ہے۔ نہ صرف منوگوڑ بلکہ تلنگانہ عوام کی عزت نفس کا تحفظ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے تمام غیر قانونی حربے استعمال کئے لیکن عوام نے قبول نہیں کیا۔ بھاری رقومات کی تقسیم کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ راجگوپال ریڈی کی کمپنی سے رقومات کی منتقلی کے ثبوت کے باوجود الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کار کے مماثل انتخابی نشانات بڑے پیمانے پر الاٹ کئے گئے جس کے نتیجہ میں ٹی آر ایس امیدوار کو 6 ہزار ووٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منوگوڑ میں ٹی آر ایس کو 43 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے ترقیاتی اور فلاحی کاموں کو عوامی منظوری حاصل ہوئی ہے۔ ر