دیش، دستور اور تحفظات کو بچانے عوام کانگریس کو ووٹ دیں

   

بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان میچ فکسنگ، کانگریس قائدین کی مشترکہ اپیل

حیدرآباد۔/12 مئی، ( سیاست نیوز) کانگریس کے قائدین نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ دستور، تحفظات، اور ملک کو بچانے کیلئے کانگریس پارٹی کو ووٹ دیں۔ فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے والی بی جے پی اور خفیہ طور پر اس کی تائید کرنے والی بی آر ایس دونوں کو شکست دیں۔ صدر نشین ریاستی حج کمیٹی سید شاہ غلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ ، صدر نشین ریاستی وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی، صدر نشین ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن عبیداللہ کوتوال، صدرنشین اردو اکیڈیمی طاہر بن حمدان، کانگریس کے سینئر قائد و سابق صدرنشین سٹ ون محمد مقصود احمد، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سید نظام الدین، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹریز عثمان محمد خان، اعجاز خان، صدر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ ارشد شیخ، کانگریس کے قائد متین شریف نے کہا کہ کانگریس پارٹی جمہوریت کی محافظ ہے، سیکولر نظریات پر ایقان رکھنے والی جماعت ہے۔ تین مرحلوں کی رائے دہی میں عوام نے کانگریس پارٹی کی کامیابی کیلئے مکمل تعاون کیا ہے۔ 13 مئی کو تلنگانہ کے عوام کا امتحان ہے، غفلت اور لاپرواہی سے ملک کا نقصان ہوگا لہذا ووٹ کو امانت تصور کرتے ہوئے حق رائے دہی سے استفادہ کریں۔ بی جے پی سیاسی مفاد پرستی کیلئے مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہوئے امن وامان کیلئے بہت بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ کانگریس پارٹی ہی فرقہ پرستوں کے خلاف مقابلہ کرسکتی ہے۔ راہول گاندھی فرقہ پرستوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں انہیں طاقت دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بی جے پی‘ این آر سی، سی اے اے کا نام لے کر دھمکارہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 4 فیصد مسلم تحفظات ختم کرنے کا اعلان کررہے ہیں لہذا کانگریس پارٹی کو کامیاب بنانا وقت کا تقاضہ ہے۔ کانگریس کے ان قائدین نے بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ رائے دہی سے بہت قبل بی آر ایس اپنی شکست قبول کرچکی ہے اور بی جے پی سے خفیہ اتحاد کرتے ہوئے کانگریس کو شکست دینے کی کوشش کررہی ہے۔ عوام بالخصوص اقلیتیں بی آر ایس سے چوکسی اختیار کریں۔ بی آر ایس کو دیا جانے والا ووٹ بی جے پی کو فائدہ پہنچائے گا لہذا بی آر ایس کو ووٹ دیتے ہوئے اپنے قیمتی ووٹ کو ضائع نہ کریں بلکہ کانگریس پارٹی کو ووٹ دیتے ہوئے تلنگانہ میں مقابلہ کرنے والے کانگریس کے تمام امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔2