لوک سبھا میں کانگریس رکن کرن کمار ریڈی کی توجہ دہانی، 222 ملازمین کا مستقبل خطرہ میں
حیدرآباد۔/11فروری، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیہی ترقی سے متعلق فنڈز میں تلنگانہ کے ساتھ انصاف کیا جائے تاکہ مرکزی اسکیمات پر موثر عمل کیا جاسکے۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران خصوصی توجہ دہانی کے تحت کرن کمار ریڈی نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایت راج کے فنڈز میں حکومت نے کمی کردی ہے جس کے نتیجہ میں ادارہ کے وجود کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2025-26 میں دیہی ترقی سے متعلق قومی ادارہ کو کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے۔ گذشتہ کئی دہوں سے وزارت دیہی ترقی مذکورہ ادارہ کی مالی امداد کرتی رہی ہے۔ ادارہ کا ہیڈکوارٹر حیدرآباد میں ہے جبکہ علاقائی سنٹرس گوہاٹی، نئی دہلی اور ویشالی میں موجود ہے۔ گذشتہ 65 برسوں کے دوران دیہی ترقی کی پالیسی کی تیاری میں قومی ادارہ نے اہم رول ادا کیا۔ پنچایت راج اداروں کے ذریعہ ملک کی 29 ریاستوں میں ٹریننگ پروگرامس منعقد کئے جارہے ہیں۔ ملک بھر میں 90 ایکسٹنشن سنٹرس قائم ہیں۔ دیہی ترقی کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو فنڈز کی اجرائی پر توجہ دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم اجرائی سے انسٹی ٹیوٹ کے 222 ملازمین اور ان کے افراد خاندان کا مستقبل خطرہ میں ہے۔ ان میں سے 54 ملازمین کا تعلق ایس سی، 7ایس ٹی اور 56 ملازمین او بی سی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزارت دیہی ترقی نے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے لاتعلقی اختیار کرلی ہے۔ ادارہ کا 200 ایکر پر محیط کیمپس ہے جس کی سالانہ مینٹننس کاسٹ 70 کروڑ ہے۔ کرن کمار ریڈی نے مرکز سے اپیل کی کہ دیہی ترقی سے متعلق قومی ادارہ کا تحفظ کریں تاکہ ملازمین اور ان کے خاندانوں کا مستقبل تاریک نہ ہونے پائے۔1