رائے درگم میں مسلم نوجوان کو اشرار کی مارپیٹ

   

چائے کی دوکان میں توڑ پھوڑ ، کسٹمرس پر بھی حملہ ، پولیس کی چوکسی

حیدرآباد ۔ 11 جون ۔ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد میں بدامنی پھیلانے اور فساد برپا کرنے کی منظم کوششوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ عطاپور اور جل پلی کے واقعات کے بعد کل رات رائے درگم حدود میں اشرار نے مسلم نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ملکارم تالاب کے قریب واقع چائے چسکا اور پان شاپ پر حملہ کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو زدوکوب کیا گیا ۔ اشرار نے چائے کی دوکان میں توڑ پھوڑ مچاتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی اور چائے چسکا پہونچنے والے مسلم کسٹمرس کی نشاندہی اور اُن کے چہرے دیکھ کر اُن پر بھی حملہ کیا گیا اور جئے ایس آر کے نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ٹولی چوکی ، شیخ پیٹ کے قریب واقع اس علاقہ میں رات دیر گئے کشیدگی پیدا ہوگئی۔ تشدد کا شکار مسلم نوجوانوں نے کہاکہ اُنھیں جئے ایس آر نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا ۔ اشرار اپنے ہاتھوں میں مہلک ہتھیار تھامے ہوئے تھے اور چائے چسکا میں توڑ پھوڑ مچانے کے بعد پان شاپ کو بھی تباہ کردیا اور دوکان کے قریب پارکنگ میں موجود گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ۔ اشرار کی غنڈہ گردی اور ہنگامہ آرائی سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ دو تا تین مرتبہ پولیس کو اطلاع دینے کے بعد بھی پولیس مقام واردات پر نہیں پہونچی حالانکہ رائے درگم پولیس اسٹیشن قریبی فاصلہ پر واقع ہے ۔ اس دوران مقامی قائدین نے زخمیوں کو پولیس کی مدد سے ہاسپٹل منتقل کیا اور رائے درگم پولیس نے بالآخر رات دیر گئے کی گئی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا ۔ چائے چسکا کے عامر خان نے اپنے بیان میں بتایاکہ چند اشرار چائے چسکا پہونچے اور مارپیٹ شروع کردی اور مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تم پاکستانی ہو ، پاکستان چلے جاؤ ، اُنھیں یہاں سے نکال دو اور جئے ایس آر کے نعرے لگا رہے تھے ۔ اشرار نے پارکنگ میں موجود موٹر سائیکلوں کو نقصان پہونچایا۔ اشرار کی مارپیٹ اور تشدد کا شکار مسلم نوجوانوںمیں سے ایک نے بتایا کہ اس کے چہرے پر داڑھی دیکھ کر یہ کہتے ہوئے مارپیٹ کی گئی کہ یہ مسلمان ہے اُسے مارو ۔ عینی شاہدین کے مطابق اشرار کا ایک گروپ ہتھیاروں کے ساتھ چائے چسکا اور سڑک کے دوسرے کنارے پر موجود تھا ۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے علاقہ میں سخت چوکسی اختیار کرلی اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں انسپکٹر پولیس رائے درگم وینکنا نے بتایا کہ چند افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور چند کی تلاش جاری ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ امن کو بگاڑنے اور بدامنی پھیلانے والے کسی بھی شخص یا گروپ کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پولیس کی جانب سے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جارہی ہے ۔ ع

سڑک حادثہ میں تین افرادہلاک
حیدرآباد۔ 11جون ۔ ( یو این آئی) تفریح کے بعد واپسی کے دوران رنگاریڈی کے یاچارم میں پرائیویٹ ٹراویلس کی بس اورکار میں تصادم ہوگیا۔ اس حادثہ میں تین افرادہلاک اورتقریباً 5افرادزخمی ہوگئے ۔یہ حادثہ منگل کی شب پیش آیا۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ونگارا پولیس اسٹیشن کے ملازمین کی ستائش کی
سماجی برائیوں کے خلاف سیکل پر پٹرولنگ کی تصاویر سوشیل میڈیا میں وائرل
حیدرآباد ۔ 11۔ جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ورنگل ضلع کے ونگارا پولیس اسٹیشن سے وابستہ ملازمین کی بھرپور ستائش کی جنہوں نے سیکل پر پٹرولنگ کے ذریعہ گاؤں والوں میں اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ونگارا پولیس اسٹیشن کی سب انسپکٹر دیویا کی قیادت میں کانسٹبلس نے سیکل پر پٹرولنگ کے ذریع عوام سے ملاقات کی ۔ میڈیا میں اس سلسلہ میں خبروں کی اشاعت کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تعریف کی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملازمین پولیس نے گاؤں والوں کو تعلیم کی اہمیت اور سماجی برائیوں کے مضر اثرات سے واقف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کیلئے محض سخت کارروائی کافی نہیں بلکہ جرائم کی بنیادی وجوہات کا پتہ چلاتے ہوئے عوام میں شعور بیداری حقیقی معنوں میں پولیسنگ تصور کی جائے گی۔ ونگارا پولیس نے سائبر جرائم کے بارے میں شعور بیداری کے علاوہ تعلیم کی اہمیت اور سماج کو برائیوں سے پاک کرنے کے لئے جو مہم شروع کی ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ مواضعات کے نوجوانوں کو گمراہی سے بچانے میں یہ مہم کارگر ثابت ہوگی اور نئی نسل کو برائیوں سے روکا جاسکے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کے دیگر پولیس عہدیداروں کے لئے ونگارا پولیس رول ماڈل ہے جس کے لئے میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔1