رائے دہندو ں کے نام حذف کرنے کی سیاست اور مسلمانوں کوحاشیے پر لانے کی سازش

   

ارون سریواستو
ناموں کو حذف کرنا محض ایک انتظامی عمل نہیں ہے۔یہ مسلمانوں کی ثقافتی اور سماجی شناخت پر ایک منصوبہ بند حملہ ہے۔یہ صرف اس بات کا سوال نہیں ہے کہ آیا ممتا بنرجی کی (SIR) کے خلاف مضبوط پوزیشن انہیں مسلم ووٹ برقرار رکھنے میں مدد دے گی، خاص طور پر جب بہت سے لوگ اپنی شہریت کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ مسلمانوں کو لاحق گہری تشویش یہ ہے کہ وہ اپنی سماجی، مذہبی اور ثقافتی شناخت کھو سکتے ہیں۔بنگالی چاہے مسلمان ہوں یا ہندوروایتی طور پر انتخابات کا جشن مناتے آئے ہیں۔ لیکن اس بار ماحول میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔اپنے ہی ملک میں بے دخلی اور بیگانگی کا سایہ مسلمانوں کو شدید بے چینی میں مبتلا کر رہا ہے۔ لاکھوں لوگ جو کبھی فخر سے خود کو ہندوستانی کہتے تھے، اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ انہیں ’’غیر محب وطن‘‘ قرار دے کر ملک سے نکال دیا جائے گا۔گیانیش کمار کا لاپرواہ رویہ اور ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کی اپیلوں پر غور سے انکار نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ووٹ دینے کے حق سے محرومی عملاً ایک مسلمان کو ناپسندیدہ شخصیت (persona non grata) بنا دیتی ہے، جس سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو بالآخر ان کی شہریت چھین سکتا ہے۔ یہ ایک وسیع نظریاتی منصوبے سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) سے وابستہ ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو منظم طریقے سے حاشیے پر دھکیلنا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ مسلمانوں کی کھلم کھلا بے دخلی عالمی ردعمل کو جنم دے گی، لیکن بظاہر اس کے لیے زیادہ نرم طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔بہت سے مسلمان، جن میں مذہبی رہنما بھی شامل ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ آر ایس ایس۔بی جے پی کا نظام انہیں ہندوتوا کے فریم ورک کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیانات کہ تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے اور ہر ہندوستانی ثقافتی لحاظ سے ہندو ہے اکثر حوالہ کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف اس عمل کا تسلسل ایک مختلف سیاسی مقصد کی نشاندہی کرتا ہے: مسلمانوں کو سیاسی طور پر غیر مؤثر بنانا یا انہیں دوسرے درجے کی شہریت تک محدود کرنا۔ مرشدآباد، مالدہ اور 24 پرگنہ جیسے اضلاع کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ناموں کی حذف کی شرح غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔
بڑا سوال یہ ہے: کیا یہ حکمتِ عملیاں بنگال میں مسلمانوں کو حاشیے پر دھکیلنے میں کامیاب ہوں گی؟ چونکہ ریاست کو ایک اہم سیاسی میدانِ جنگ سمجھا جاتا ہے، اس کے نتائج کے قومی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بنگال کا دیرینہ سیکولر تشخص دباؤ میں ہے، اور کسی بھی تبدیلی سے ملک کی سیاسی سمت بدل سکتی ہے۔
آخرکار، مسلم ووٹروں کے ناموں کی منظم حذف کاری کو بہت سے لوگ ایک بڑے منصوبے کا حصہ سمجھتے ہیں، جس کا مقصد ثقافتی اور سیاسی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہے ۔ایسا منصوبہ جو قومی شناخت کو نئی شکل دیتے ہوئے اقلیتی برادریوں کو کمزور کرتا ہے۔ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تقسیم کے بعد بھارت میں رہنے کا انتخاب کیا، یہ لمحہ صرف ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ ایک گہرا احساسِ دھوکہ بھی ہے