گریٹر حیدرآباد کے مختلف مقامات پر کشیدگی ، پولیس نے کئی افراد کو اپنی تحویل میں لیا
حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں رائے دہی کا تناسب مایوس کن ثابت ہوا ہے ۔ عمر رسیدہ اور معذورین نے جہاں ووٹ دینے کے لیے جوش و خروش دکھایا ہے وہیں نوجوان طبقہ ہالی ڈے مناتے ہوئے نظر آیا ہے ۔ 80 سال ، 90 سال کے معمرین اور خواتین نے ووٹ دینے میں دلچسپی دکھائی ہے ۔ کورونا بحران کے باعث گذشتہ تین ماہ تک گھر تک محدود رہنے والے چیف انوائرنمنٹ سائنٹسٹ رویندر نے امیر پیٹ پولنگ مرکز کو وہیل چیر پر پہونچکر ووٹ دیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے مختلف مقامات پر ووٹوں کا تناسب مایوس کن رہا ہے ۔ رائے دہندے ووٹ دینے کے لیے نہ پہونچنے پہ پولنگ عملہ کو ڈیوٹی کے ٹیبل پر سوتا ہوا دیکھا گیا ہے ۔ دوپہر ایک بجے تک صرف 18.20 فیصد پولنگ ہوئی تھی ۔ مئیر کے عہدے پر اپنا اپنا دعویٰ پیش کرنے والی ٹی آر ایس اور بی جے پی بھی ووٹنگ تناسب گھٹنے پر تشویش میں مبتلا ہے ۔ دونوں جماعتوں کے کارکن دونوں شہروں کے علاوہ مضافات کے کئی مقامات پر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے دیکھے گئے اور دونوں جماعتوں کے قائدین نے ایک دوسرے پر پیسے تقسیم کرنے اور بوگس ووٹنگ کرانے کے الزامات کئے ہیں ۔ جس سے کئی مقامات پر کشیدگی دیکھی گئی ہے ۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے حالت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے کئی مقامات پر حالت کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کو پولیس نے گرفتار بھی کیا ہے ۔ کئی مقامات پر دونوں گروپس کو منتشر کرنے ہلکا طاقت کا بھی استعمال کیا ہے ۔۔