حیدرآباد۔ شہر میں رائے دہندوںکی بڑی تعداد میں رائے دہی میں حصہ کیوں نہیں لیا! رائے دہندوں کو کیا ہوگیا کہ وہ اپنے حق رائے دہی کے استعمال سے گریز کرنے لگے ہیں اورووٹ کی اہمیت کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد انتخابات میں پولنگ فیصد میں گراوٹ کے بعد مختلف گوشوں سے تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ووٹرس کو انتخابات میں دلچسپی نہیں رہی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہاہے کہ پولنگ فیصد میں گراوٹ کیلئے چیف منسٹر کے سی آر ‘ وزراء کے ٹی آر اور ہریش راؤ ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے ووٹرس میں فسادات کا خوف پیدا کرکے ماحول کو کشیدہ کردیا تھا جس کی وجہ سے عوام نے رائے دہی میں حصہ نہیں لیا۔ سنجیدہ شہریو ںکا کہناہے کہ رائے دہی کے فیصد میں گراوٹ شہریوں کی بے اعتنائی کا ثبوت ہے۔ بعض شہریوں نے رائے دہی کی تاریخ کے فیصلہ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے طویل تعطیلات کے ساتھ انتخابات کی تاریخ رکھی گئی جس کے سبب کئی شہری تفریح کیلئے شہر کے باہر ہیں ۔ امیدواروں سے اعتراف کیا گیا کہ مکینوں کی جانب سے رائے دہی میں حصہ لینے سے انکا رکیا گیا ہے اور کئی محلہ جات میں شہریوں نے ووٹ کے استعمال کیلئے نہ نکلنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سیاسی قائدین نے رائے دہی کے فیصد میں کمی پر شہریوں کو کاہل اور غیر ذمہ دارقرار دیا اور شہریوں پر طنز کیا جانے لگاہے لیکن کئی گوشوں کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ قائدین کو عوام کو نشانہ بنانے سے قبل اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کیونکہ کارپوریٹرس کے متعلق بھی اب یہ بات مشہور ہونے لگی ہے کہ وہ بھی ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمان کی طرح 5سال میں ایک مرتبہ نظر آنے لگے ہیں اوروہ ترقیاتی کاموں کے علاوہ مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی حدود میںکئی مقامات پر تلبیس شخصی کے ساتھ رائے دہی نئی بات نہیں ہے لیکن آج حقیقی رائے دہندوں کی کم تعداد نے امیدواروں الجھن میں مبتلاء کر دیا تھا۔