آکسیجن اور دیگر سہولتوںکی فراہمی، مسجد کمیٹی کا قابل ستائش اقدام
حیدرآباد: کورونا وباء کی صورتحال کے دوران کئی رضا`کارانہ تنظیموں نے متاثرین کی مدد کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ مریضوںکی دواخانہ منتقلی ، ادویات کی سربراہی، آکسیجن اور ضروری انجکشن فراہم کرنے میں کئی تنظیموں نے اپنی خدمات کا آغاز کیا ہے ۔ آکسیجن کی قلت سے نمٹنے کیلئے کئی این جی اوز نے اپنے خرچ پر مفت آکسیجن کی سربراہی کا آغاز کیا ۔ مصیبت کی اس گھڑی میں بلا لحاظ مذہب و ملت خدمت کے جذبہ کے تحت کام کیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد کے راجندر نگر علاقہ میں ایک مسجد کے احاطہ میں آئسولیشن سنٹر کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کورونا کے مریض آئسولیشن میں اپنا علاج کراسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد سے متصل اسکول کی عمارت کو کورنٹائن کی سہولتوں جیسے بیڈس ، آکسیجن ، پلس آکسی میٹرس اور دیگر آلات سے مربوط کیا جارہا ہے ۔ اس عمارت میں 40 افراد کو آئسولیشن میں رکھنے کی گنجائز ہے اور توقع ہے کہ 20 مئی سے آئسولیشن سنٹر کارکرد ہوجائے گا ۔ ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر نے عطاپور کے علاقہ میں واقع مسجد محمدی کو آئسولیشن سنٹر میں تبدیل کرنے کو منظوری دی ہے۔ مسجد کمیٹی میں اسلامک گائیڈنس اسکول کی عمارت کو ایک خانگی تنظیم کے حوالے کیا ہے جسے 6 ماہ تک آئسولیشن سنٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا ۔ تقریباً 65 لاکھ روپئے کے خرچ سے مختلف سماجی ادارے آئسولیشن سنٹر کی ضروریات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ آکسیجن سے مربوط بیڈس کی تیاری کے لئے ایک کمپنی کو آرڈر دیا گیا ہے ۔ آئسولیشن سنٹر میں ڈاکٹرس ، نرسیس ، پیرا میڈیکل اسٹاف کی سہولت دستیاب رہے گی۔ مریضوں کو تغذیہ بخش غذاؤں کے علاوہ فزیو تھراپسٹ خدمات فراہم کی جائیں گی۔