راجہ سنگھ نے بی جے پی چھوڑ دینے یا نئی پارٹی بنانے کی تردید کردی

   

میری پہلی پارٹی تلگو دیشم تھی اور آخری پارٹی بی جے پی رہے گی
حیدرآباد۔ 12جون (سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے نئی پارٹی تشکیل دینے یا کسی اور پارٹی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کی تردید کی۔ انہوں نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں پارٹی سے معطل کیا گیا تھا، وہ 14 ماہ تک بی جے پی کی سرگرمیوں سے دُور رہے۔ تب انہوں نے کوئی دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی اور نہ ہی کوئی نئی پارٹی تشکیل دی۔ وہ بی جے پی کے علاوہ کسی اور پارٹی میں نہیں رہنا چاہتے۔ بی جے پی میں ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ کچھ لوگ ان سے کھلواڑ کررہے ہیں، باوجود اس کے بی جے پی سے ترک تعلق نہیں کریں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کے نظریات کی وجہ سے بی جے پی سے وابستہ ہیں۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ میری پہلی پارٹی تلگو دیشم تھی اور آخری پارٹی بی جے پی ہے۔ بی جے پی سے تعلق ختم کرنا ہو تو وہ سرگرم سیاست ہی چھوڑ دیں گے۔ حالیہ دنوں میں تلنگانہ بی جے پی کے صدر و مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور اسمبلی حلقہ گوشہ محل کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے درمیان سرد جنگ شروع ہوئی۔ راجہ سنگھ راست و بالواسطہ کشن ریڈی کے علاوہ بی جے پی کے دیگر قائدین پر کھلے عام تنقید کررہے ہیں، اور انہیں (راجہ سنگھ کو) پارٹی سے معطل کرنے کا بھی چیلنج کررہے ہیں۔ مقامی ادارہ کے ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار پر بھی راجہ سنگھ نے تنقید کی تھی۔ ساتھ ہی مجوزہ جوبلی ہلز حلقہ کے ضمنی انتخابات سے بھی انہوں نے بالواسطہ طور پر ریڈی طبقہ کے علاوہ دوسرے طبقہ کے امیدوار کو ٹکٹ دینے کی پارٹی ہائی کمان سے مطالبہ کیا ہے۔ 2