دہلی کانگریس قائد علی مہدی کا حلقہ ملک پیٹ کا دورہ ، پارٹی امیدوار شیخ اکبر کے لیے انتخابی مہم
حیدرآباد۔7۔نومبر۔(سیاست نیوز) ملک میں راہول گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے ذریعہ ایک انقلاب پیدا کیا ہے اور اس انقلاب کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک بھر کے عوام اب یہ کہہ رہے ہیں کہ راہول گاندھی ہی ہیں جو ملک سے فرقہ پرستی ‘ سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجیت کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ ورکنگ پریسڈنٹ دہلی کانگریس کمیٹی جناب علی مہدی نے آج اپنے دورہ حیدرآباد کے دوران حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں کانگریس امیدوار جناب شیخ اکبر اور انچارج ملک پیٹ جناب مظفر علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ کانگریس انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے معاملہ میں کوئی مفاہمت نہیں کرتی بلکہ فوری اثر کے ساتھ تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں۔ جناب علی مہدی نے بتایا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے اور کانگریس پارٹی کے تمام امیدوار عوام کی خدمت اور اپنے علاقہ کی ترقی کے منصوبہ کے ساتھ میدان میں ہیں۔ جناب شیخ اکبر امیدوار حلقہ اسمبلی ملک پیٹ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کی مجموعی ترقی اور نئے دواخانوں‘ سرکاری اسکولوں کے علاوہ معیاری سہولتوں کی فراہمی کا منصوبہ وہ تیار کئے ہوئے ہیں اور ان کی کامیابی کی صورت میں حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کی نئی صورت گری ہوگی ۔ انہو ںنے بتایا کہ تین مرتبہ رکن اسمبلی رہنے والے مجلسی قائد نے حلقہ کی ترقی کے نام پر ایک نئے کالج‘ اسکول یا دواخانہ کا اضافہ اس حلقہ میں نہیں کیا جو کہ افسوسناک ہے۔جناب شیخ اکبر نے بتایا کہ وہ عوام کے درمیان کسی شہرت یا دولت حاصل کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں بلکہ ان کے بنیادی مسائل کے حل کے علاوہ اس حلقہ کی تعلیمی ‘ معاشی اور سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ اس حلقہ میں عصری سہولتوں کی فراہمی کے منصوبہ کے ساتھ عوام کے درمیان پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کی 6 ضمانتوں کے علاوہ اپنے حلقہ کے عوام کے لئے وہ منفرد منصوبہ تیار کئے ہوئے ہیں۔ جناب مظفر علی خان نے اس پریس کانفرنس کے دوران صدر مجلس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس پر الزامات عائد کرنے سے قبل اسد الدین اویسی اس بات کا جواب دیں کہ انہوں نے جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی سے کانگریس کے مسلم امیدوار محمد اظہر الدین کو شکست دینے کے لئے مسلم امیدوار میدان میں اتارنے کا ’’گتہ‘‘ کتنے میں حاصل کیا ہے!اسی طرح ماموں کے بھانجہ عوام کو یہ بتائیں کہ اضلاع میں ماموں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرنے کا ’گتہ‘ ماموں نے کتنے میں دیا ہے!اس کے علاوہ کانگریس قائد راہول گاندھی کو نشانہ بنانے کا ’گتہ ‘ کس سے اور کتنے میں لیا گیا ہے!