رمضان المبارک کے آداب

   

قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کیجئے ۔ کثرت تلاوت کے ساتھ ساتھ سمجھنے اور اثر لینے کا بھی خاص خیال رکھئے ۔ تراویح میں پورا قرآن سننے کا اہتمام کیجئے ۔ ایک بار رمضان میں پورا قرآن پاک سننا مسنون ہے ۔ تراویح کی نماز خشوع خضوع اور ذوق و شوق کے ساتھ پڑھئے اور جوں توں بیس رکعت کی گنتی پوری نہ کیجئے بلکہ نماز کو نماز کی طرح پڑھئے تاکہ آپ کی زندگی پر اس کا اثر پڑے اور خدا سے تعلق مضبوط ہو اور خدا توفیق دے تو تہجد کا بھی اہتمام کیجئے ۔ صدقہ اور خیرات کیجئے ، غریبوں، بیواؤں اور یتیوں کی خبرگیری کیجئے اور ناداروں کی سحری اور افطار کا اہتمام کیجئے ۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’ یہ مواسات کا مہینہ ہے ‘‘ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سخی اور فیاض تو تھے ہی مگر رمضان میں تو آپؐ کی سخاوت بہت ہی بڑھ جاتی تھی ۔ جب حضرت جبریل علیہ السلام ہر رات کو آپؐ کے پاس آتے اور قرآن پاک پڑھتے اور سنتے تھے تو ان دنوں نبیؐ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے ۔ شب قدر م یں زیادہ سے زیادہ نوافل کا اہتمام کیجئے اور قرآن کی تلاوت کیجئے ۔ اس رات کی اہمیت یہ ہے کہ اس رات میں قرآن نازل ہوا ۔ قرآن میں ہے ’’ ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے ۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اس میں فرشتے اور حضرت جبریل علیہ السلام اپنے پروردگار کے حکم سے ہر کام کے انتظام کیلئے اترتے ہیں ۔ سلامتی ہی سلامتی یہاں تک کہ صبح ہوجائے ۔ حدیث میں ہے کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے ۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں ’’ ایک سال رمضان آیا تو نبیؐ نے فرمایا ، تم لوگوں پر ایک مہینہ آیا ہے ، جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔
(باقی سلسلہ آئندہ )