بی جے پی کا دوہرا معیار بے نقاب، قومی گودی میڈیا کو بھی شرمندگی، کونسل الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش
حیدرآباد۔/19 فروری، ( سیاست نیوز) مسلمان سرکاری ملازمین کو رمضان المبارک کے دوران ایک گھنٹہ قبل دفتر سے گھر واپسی کی اجازت پر بی جے پی کا دوہرا معیار اس وقت بے نقاب ہوگیا جب بی جے پی قائدین نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت کی جانب سے دی گئی رعایت پر تنقید کی جبکہ آندھرا پردیش کی این ڈی اے حکومت کی جانب سے مسلم ملازمین کو ایک گھنٹہ قبل دفاتر سے جانے کی ایسی ہی رعایت پر خاموشی اختیار کی ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار، رکن اسمبلی راجہ سنگھ اور بی جے پی کے ریاستی ترجمان این وی سبھاش نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت کے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلمانوں کی دلجوئی کی پالیسی سے تعبیر کیا۔ مرکزی وزیر بنڈی سنجے کو اس بارے میں تبصرہ کرنے سے قبل کم از کم آندھرا پردیش کی این ڈی اے حکومت کے فیصلہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہیئے تھی۔ مرکزی وزیر اور وہ بھی وزارت داخلہ کے انچارج وزیر کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیان پر سیاسی حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مرکزی وزیر کا بیان دراصل مرکزی حکومت کی ترجمانی کی طرح ہوتا ہے۔ بنڈی سنجے کمار نے ایک گھنٹہ قبل جانے کی کئی دہوں سے چلی آرہی روایت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے ہندوؤں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا۔ بنڈی سنجے نے کانگریس میں موجود ہندو قائدین کو یہ کہتے ہوئے للکارنے کی کوشش کی کہ اگر آپ کی رگوں میں حقیقی ہندو خون ہے تو میرے سوال کا جواب دیں کہ ہنومان جینتی اور دیگر ہندو تہواروں میں یہ سہولت کیوں نہیں دی جاتی۔ مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنے کیلئے مشہور ملعون راجہ سنگھ کو ویڈیو پیام جاری کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا اور اس نے حکومت کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان این وی سبھاش نے کانگریس حکومت کے فیصلہ کو ووٹ بینک کی سیاست سے تعبیر کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت یہ قائدین بیانات جاری کررہے تھے اُسی وقت آندھرا پردیش کی این ڈی اے حکومت نے نہ صرف ایک گھنٹہ قبل جانے کی مسلمانوں کو اجازت کے احکامات جاری کئے بلکہ رمضان المبارک کے دوران برقی اور پانی کی موثر سربراہی کے علاوہ صفائی کے بہتر انتظامات کیلئے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی گئی۔ بی جے پی کے تلنگانہ قائدین نے دہلی کے بعض گودی میڈیا چینلس کو تلنگانہ حکومت کے احکامات کی نقل روانہ کی جس کے ساتھ ہی بعض ٹی وی چینلس کے اینکرس نے چیخ چیخ کر کانگریس کو کوسنا شروع کردیا۔ قومی گودی میڈیا چینلس کے اینکرس جب کانگریس قائدین سے ردعمل جاننے کیلئے رجوع ہوئے تو کانگریس قائدین نے آندھرا پردیش حکومت کے احکامات کی نقل روانہ کردی۔ پھر کیا تھا گودی میڈیا کے چینلوں سے مخالف کانگریس حکومت مہم اچانک بند ہوگئی اور کسی بھی اینکر کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ آندھرا پردیش حکومت کو نشانہ بنائے یا پھر چندرا بابو نائیڈو سے سوال کریں۔ آندھرا پردیش میں بی جے پی نہ صرف تلگودیشم کی حلیف ہے بلکہ وہ حکومت میں بھی شامل ہے۔ ایسے میں مخلوط حکومت کا کوئی بھی فیصلہ بی جے پی کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے سرکردہ قائدین نے تلنگانہ قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کو رمضان کی رعایت کے مسئلہ پر بیان بازی سے گریز کریں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں کئی دہوں سے یہ روایت جاری ہے کہ رمضان المبارک میں مسلم ملازمین کو ایک گھنٹہ قبل دفاتر سے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں کی بی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس حکومتوں نے یہ تسلسل جاری رکھا تھا۔ تلنگانہ بی جے پی قائدین نے گریجویٹ اور ٹیچر زمرہ کی 3 ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات میں مذہبی بنیادوں پر رائے دہندوں کو تقسیم کرنے کی سازش کے تحت یہ مسئلہ چھیڑ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ کے ایک اور مرکزی وزیر کے علاوہ پارٹی ارکان پارلیمنٹ نے بھی پارٹی کے بعض قائدین کے تجاہل عارفانہ پر حیرت کا اظہار کیا۔ الغرض بی جے پی قائدین رمضان میں مسلم ملازمین کے دفاتر سے ایک گھنٹہ قبل جانے کی اجازت کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش میں ’سیلف گول ‘ کرتے ہوئے خود اپنے آپ میں ندامت محسوس کررہے ہیں۔ بعض گودی میڈیا کے قومی چینلس نے کچھ دیر تک ریونت ریڈی حکومت کو نشانہ بنانے کے بعد اچانک خاموشی اختیار کرلی۔ آر جے ڈی منوج جھا اور دیگر قائدین نے بھی اس پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ 1