مکہ مسجد میں ہزاروں فرزندان توحید نے نماز ادا کی، یوم القرآن کے تمام جلسے منسوخ
حیدرآباد: رمضان المبارک کے پہلے دہے کے اختتام کے ساتھ آج دوسرا جمعہ مساجد میں کثیر اجتماعات اور دعاؤں کے ساتھ گزر گیا۔ تاریخی مکہ مسجد میں ہزاروں فرزند توحید نے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی۔ حافظ و قاری محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے خطبہ دیا اور امامت کی ۔ خطبہ میںانہوں نے انسانیت اور عالم اسلام کیلئے خصوصی دعا کی ۔ شہر کی دیگر مساجد میں جمعہ کے موقع پر کثیر اجتماعات دیکھے گئے ۔ نماز جمعہ کے بعد عام طور پر تقریباً مساجد میں یوم القرآن کے جلسوں کا انعقاد ہر سال کی روایت رہی ہے لیکن کورونا کے پیش نظر اس مرتبہ حکومت نے جلسوں کی اجازت نہیں دی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے مکہ مسجد میں رمضان المبارک کے تمام یوم القرآن جلسوں کی اجازت کو منسوخ کرنے احکام جاری کئے ۔ آج مکہ مسجد میں دوسرا جمعہ کے بعد جلسہ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ مسجد میں کورونا قواعد پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے ۔ ہر مصلی کیلئے ماسک کا استعمال و ہاتھوں کو سینیٹائز کرنا لازمی قرار دیا گیا ۔ صفوں کے اہتمام میں فاصلہ رکھا گیا ہے ۔ مکہ مسجد میں آج سے دوسرے دہے کا آغاز ہوا جس میں حافظ و قاری لطیف احمد روزانہ نماز تراویح میں تین پارے سنارہے ہیں۔ جمعہ کے موقع پر چارمینار اور اطراف علاقوں میں پولیس کے معقول انتظامات کئے گئے تھے ۔ پولیس کی جانب سے عوام کو ماسک کے استعمال کیلئے شعور بیدار کرتے دیکھا گیا ۔ پرانے شہر کی تمام بڑی مساجد میں نماز جمعہ کے روح پرور مناظر دیکھے گئے ۔ اس کے علاوہ نامپلی ، ملے پلی ، مہدی پٹنم ، ٹولی چوکی ، سکندر آباد اور دیگر علاقوں میں نماز جمعہ ہزاروں فرز ندان توحید نے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی ۔ نماز سے قبل خطاب میں علماء اور ائمہ مساجد نے موجودہ صورتحال میں مسلمانوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کا مشورہ دیا۔ مقررین نے رمضان المبارک میں عبادتوں کے اہتمام کے علاوہ رشتہ داروں اور غریبوں میں مستحق افراد کو زکوٰۃ کے ذریعہ مدد کرنے کی اپیل کی ۔ کورونا وباء کے پیش نظر غریب خاندانوں میں غذائی اجناس کی فراہمی کیلئے مختلف مساجد میں اپیل کی گئی ۔ مساجد کے اطراف اس مرتبہ صحت و صفائی کے انتظامات دیکھے گئے جبکہ گزشتہ جمعہ کو بلدیہ کے حکام کی لاپرواہی پر عوام نے برہمی کا اظہار کیا تھا ۔ جی ایچ ایم سی نے کچرے کی نکاسی کیلئے گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔