مہلوکین میں ملزم کی بیوی اور دو بچے بھی شامل ، انتقامی کارروائی
حیدرآباد ۔ 11 جولائی (سیاست نیوز) ضلع رنگاریڈی میں ایک پاکسو ملزم نے 6 افراد کا قتل کردیا۔ ریاست بھر میں سنسنی کا سبب بننے والی اس واردات میں ملزم نے اپنی بیوی اور دو کمسن بچوں کو بھی ہلاک کردیا۔ پاکسو مقدمہ کے تحت اس واردات کو انتقامی کارروائی قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم ملزم ابھی بھی پولیس کی پہنچ سے باہر ہے۔ خوف و دہشت کا سبب بنی یہ واردات شادنگر منڈل میں پیش آئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق قاتل سمجھے جارہے راج کمار کی دو دن قبل ہی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی تھی۔ ایک 17 سالہ لڑکی کی والدہ کی شکایت پر راج کمار کے خلاف پاکسو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان سارے معاملات میں پولیس کی لاپرواہی کو موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ پولیس کی مجرمانہ غفلت اور متاثرہ کے ساتھ لاپرواہی 6 افراد کے قتل کا سبب بن گئی۔ مقامی افراد کی براہمی اور الزامات کے پیش نظر سب انسپکٹر پولیس کو کمشنر فیوچرسٹی نے معطل کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ راج کمار کل رات شادنگر پہنچا اور اس 17 سالہ لڑکی کو اس کے مکان سے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کررہا تھا۔ لڑکی والدہ اور دادی کے ہمراہ رہتی تھی۔ ان کے مکان میں کوئی مرد افراد نہیں تھے۔ بچی کو ساتھ لیجانے کی کوشش میں لڑکی کی والدہ لکشمی اور اس کی دادی روکمان نے مداخلت کی۔ راج کمار نے دونوں کو چھرا گھونپ کر قتل کردیا اور پھر لڑکی کو تالاب کے قریب لے گیا اور اس کا گلا کاٹ دیا جس کے بعد وہ اپنے گھر پہنچا اور بیوی سریتا 33 سالہ اور دو بچے پریکشت چار سال اور دو دیکشت دو سال کا بھی گلا کاٹ کر قتل کردیا جس کے بعد راج کمار نے اس کے والد ارون کمار کو فون پر قتل کی اطلاع دی اور بتایا کہ اس نے اپنی بیوی بچوں کے علاوہ لڑکی اس کی والدہ اور دادی کا بھی قتل کردیا اور خودکشی کرنے والا ہے۔ والد سے بات کرنے کے بعد راج کمار نے اپنا فون بند کردیا اور لاپتہ ہوگیا۔ پولیس کی خصوصی ٹیمیں راج کمار کو تلاش کررہی ہیں اور خودکشی کی اطلاع پر ہر ممکنہ مقام پر اس کی تلاش جاری ہے اور اہم مقامات پر نظر بڑھا دی گئی ہے۔ راج کمار نے سال 2018ء میں سریتا سے لومیاریج کی تھی جس کے بعد یہ 17 سالہ لڑکی اس کو پسند آگئی۔ راج کمار کی مسلسل ہراسانیوں اور اذیت سے تنگ اس کی والدہ نے بچی کا کالج بھی بند کروادیا تھا لیکن امتحانات کے وقت کالج پہنچنے والی لڑکی کے دست درازی پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ صحیح پولیس رپورٹ نہ ہونے کے سبب راج کمار دو ماہ میں ضمانت پر جیل سے باہر آ گیا اور ضمانت پر رہائی کے بعد اس نے قتل کی وارداتوں کو انجام دیا۔ ان واقعہ میں پولیس کی مبینہ لاپرواہی پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ پولیس کی جانب سے مسلسل ہراسانی کے باوجود متاثرہ شکایت گزار فیملی کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ پولیس مصروف تحقیقات ہے۔عa/b