روس اور این اے ٹی او کے درمیان میں راست تصادم IIIعالمی جنگ ہوگی۔ بائیڈن

,

   

بائیڈن نے کہاکہ یوکرین میں روس کبھی فاتح حاصل نہیں کرسکتا
واشنگٹن۔ر وس کیمیائی ہتھیار وں کے استعمال کی بڑی قیمت ادا کرے گا‘ امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ جمعہ کے روز کہا اور زوردیا کہ واشنگٹن یوکرین میں ماسکو سے نہیں لڑگے کیونکہ این اے ٹی وی سے راست تصادم اور کریملین تیسری عالمی جنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔

ماسکو کی جانب سے یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں ڈانٹیسک اور لوہانسک کو خو دمختار علاقے تسلیم کرنے کے تین دنوں بعد24فبروری کو روس نے یوکرین میں فوجی کاروائیاں شروع کی تھیں۔

بائیڈن نے وائٹ ہاوز میں رپورٹرس کو بتایاکہ یوروپ میں ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر کھڑے رہیں اور ایک غیر واضح پیغام دیں گے۔ ہم امریکہ کی پوری طاقت کے ساتھ اے این ٹی او کے ایک انچ کا دفاع کریں گے اور این اے ٹی او کو مضبوط کریں گے۔

ہم یوکرین میں روس کے خلاف لڑائی نہیں کریں گے۔ این اے ٹی او اور روس کا مابین راست تصادم تیسری عالمی جنگ ہے۔ بچاؤ کے لئے ہمیں تشویش کرنے کی ضرورت ہے۔این اے ڈی او 30نارتھ امریکی اور یوروپی ممالک پر مشتمل ادارہ ہے۔

این اے ٹی او کے بموجب ان کا مقصد”اپنے ممبرس کی آزادی اور سلامتی کوسیاسی اور فوجی اغراض ومقاصد کے ذریعہ تمانعت فراہم کرنا ہے“۔بائیڈن نے کہاکہ یوکرین میں روس کبھی فاتح حاصل نہیں کرسکتا۔ بائیڈن نے کہاکہ وہ(روسی صدر ولاد میرپوتن) امید کررہے ہیں کہ وہ بغیر ایک لڑائی کے یوکرین پر اجارہ داری قائم کرلیں گے‘ انہوں نے مزیدکہاکہ پوتن این اے ٹی او کے اتحاد کو توڑنے اورکمزور کرنے کی اپنی مبینہ کوشش میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ امریکی عوام اور دنیا یوکرین کے مسلئے پر متحد ہے۔ ہم یوکرین کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم مطلق العنان اور شہنشاہوں کودنیا کی سمت کا تعین کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس عمل کو پورا کرنے کے لئے جمہوریتیں اٹھ رہی ہیں‘ جس کا مقصد دنیا کوامن کی طرف لے جانا ہے۔

ہم اپنی طاقت دیکھا رہے ہیں‘ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کیونکہ پوتن اپنا بے رحمانہ حملہ جاری رکھے ہوئے ہیں‘ امریکہ اور اس کے ساتھی اور شراکت دار پوتن پر معاشی دباؤ ڈالنے کے لئے پابندیوں پر مشتمل اقدامات اٹھارہے ہیں اور مزید روس کو عالمی سطح پر تنہا کررہے ہیں۔

بائیڈن نے کہاکہ روس کے لئے (اس حیثیت) کو منسوخ کرنا امریکہ کے ساتھ روس کو کاروبار کرنے میں مشکلات پیدا کردے گا۔ عالمی معیشت کے ساتھ دنیا کا نصف حصہ بنانے والے ممالک کے ساتھ بھی ملکر اس طرح کی کاروائیاں روسی معیشت کے لئے ایک اور زوردار دھچکا کوگا۔

انہوں نے کہاکہ پہلے ہی یہ بڑی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بائیڈن نے کہاکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی زبردست قیمت روس ادا کرے گا۔ میں خفیہ (معاملات) کے متعلق بات نہیں کررہاہوں۔ انہوں نے کہاکہ مگر روس کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بڑی بھاری قیمت ادا کرے گا۔