واشنگٹن۔ 10 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ روس اور چین کو گرین لینڈ پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے امریکہ کو اس پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہیے ۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تیل کی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم گرین لینڈ نہیں لیتے ، تو روس یا چین آپ کے پڑوسی بن جائیں گے ۔ ایسا نہیں ہونے والا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں آسانی سے معاہدہ کرنا چاہتا ہوں، لیکن اگر ہم اسے آسانی سے نہیں کرتے ، تو پھر ہم اسے مشکل طریقہ سے کریں گے ۔انہوں نے ڈنمارک کے خود مختار علاقہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کی خود مختاری پر سوال اٹھایا اور اس وسیع و عریض، وسائل سے بھرپور جزیرے پر تاریخی دعوؤں کو مسترد کر دیا۔انہوں نے کہاکہ میں ڈنمارک کا مداح ہوں، لیکن آپ جانتے ہیں، صرف اس لیے کہ 500 سال پہلے ان کا ایک جہاز وہاں اترا تھا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس زمین کے مالک ہیں۔یہ تبصرے امریکہ اور اس کے کئی ناٹو اتحادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ آرکٹک خطہ میں روسی اور چینی سرگرمیوں میں اضافے سے جڑے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو گرین لینڈ پر قبضہ کر لینا چاہیے ۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے ایسے کسی بھی اقدام کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے ۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی حملہ ناٹو اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم عالمی سلامتی کے نظام کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ناٹو کو یہ سمجھنا ہوگا۔ میں ناٹو کے ساتھ ہوں۔ میں نے ناٹو کو بچایا۔ اگر میں نہ ہوتا تو آج ناٹونہ ہوتا۔ کوپن ہیگن اور گرین لینڈ کی مقامی حکومتوں نے باربار کہا ہے کہ یہ علاقہ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کا مستقبل وہاں کے لوگ خود طے کریں گے ۔
