روس دو لاکھ بچوں کو زبردستی اٹھا لے گیا: یوکرین

   

کیف : یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ماسکو پر یوکرین سے دو لاکھ بچوں کو زبردستی اٹھا کر روس لے جانے کا الزام لگایا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین اس حرکت کے لیے ذمہ دار افراد کو سزا دے گا۔ زیلنسکی نے چہارشنبہ کو، بین الاقوامی یوم اطفال کے موقع پر، قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اس مجرمانہ پالیسی کا مقصد صرف لوگوں کو چرانا نہیں ہے بلکہ روس چاہتا ہے کہ جن لوگوں کو اٹھا کر لے گیا ہے وہ یوکرین کو بھول جائیں اور کبھی واپس لوٹ نہ سکیں۔”یوکرینی صدر نے کہا کہ ماسکو جن دو لاکھ بچوں کو زبردستی روس لے گیا ہے ان میں یتیم خانوں میں رہنے والے بچے اور اپنے خاندان سے الگ ہوجانے والے بچوں کے علاوہ ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہیں ان کے والدین سے زبردستی چھین لیا گیا۔وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ جو لوگ بھی اس حرکت کے لیے ذمہ دار ہیں یوکرین انہیں سزا دے گا۔ تاہم اس سے پہلے وہ روس کو یہ دکھا دے گا کہ یوکرین کو فتح نہیں کیا جاسکتا، اور ہمارے عوام خودسپردگی نہیں کریں گے اور ہمارے بچے قابضین کی جائیدادنہیں بنیں گے۔ ”یوکرینی صدر نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 243 بچے ہلاک ہوچکے ہیں، 446 زخمی ہوئے ہیں اور 139لاپتہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ جن علاقوں پر روسی فوج نے قبضے کررکھے ہیں وہاں کی پوری تصویر ان کی حکومت کے پاس دستیاب نہیں ہے۔یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی نیوز گروپ نیوز میکس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک کے مشرق میں حالات بہت خراب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میدان جنگ میں ہر روز 60 سے 100 کے قریب یوکرینی فوجی ہلاک ہورہے ہیں جبکہ 500 تک زخمی ہو رہے ہیں۔یوکرینی فوج کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت اس لیے ہورہی ہے کیونکہ وہ انتہائی مشرقی علاقے لوگانسک پر روسی فوج کے مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کی پوری طاقت کے ساتھ ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ روسی فوج نے طویل محاصرہ اور شدید گولہ باری اور بمباری کے بعد سیوردونتسک شہر پر قبضہ کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ مشرق میں ہم پوری شدت کے ساتھ اپنا دفاع کررہے ہیں۔