رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
روس اور یوکرین کی جنگ نے دنیا بھر میں اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ کئی ممالک میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ کچھ ممالک کی جانب سے روس سے تیل اور گیس کی درآمدات کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو کچھ ممالک نے روس سے تیل خریدنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ مختلف ممالک مختلف گروپس میں بٹ گئے ہیں۔ تاہم کچھ ممالک اب بھی خود کو غیرجانبدار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ وہ نہ روس سے تجارت کو بند کر رہے ہیں اور نہ امریکہ کا کھل کر ساتھ دے رہے ہیں۔ جہاں تک روس۔ یوکرین جنگ کا سوال ہے تو اس میں روس ابھی تک اپنی من مانی ہی کرتا آیا ہے ۔ اس نے مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی تحدیات کو عملا نظر انداز کردیا ہے اور شائد ان تحدیدات کا روس پر کوئی خاص اثر بھی مرتب نہیں ہوا ہے ۔ دوسری جانب مغربی ممالک صرف تحدیدات عائد کرتے ہوئے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تحدیدات روس کی معیشت پر کچھ بھی اثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ یوروپی یونین نے خود ایک وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک یوروپی ممالک نے روس کو 35 بلین ڈالرس سے زیادہ کی رقم تیل اور گیس کی خریدی کے ذریعہ ادا کی ہے جبکہ یوروپی یونین نے یوکرین کو محض ایک بلین ڈالرس کی مدد ہتھیار وغیرہ کی شکل میں فراہم کی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو ممالک روس پر تحدیدات عائد کر رہے ہیں وہی ان تحدیدات کو بے اثر کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ روس نے اب ایک نئی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل اور گیس کی فروخت صرف روسی کرنسی میں ادائیگی کرنے والوں کو ہی عمل میں لائی جائے گی ۔ یہ ایک طرح سے روس کی جانب سے امریکہ اور اس کے ڈالر پر ایک جوابی وار کی کوشش ہے ۔ جن ممالک کو روس کا تیل اور گیس درکار ہوگا انہیں یقینی طور پر روسی روبیل میں ادائیگی کرنی ہوگی اور ڈالر کی اہمیت میں کمی آنے لگے گی ۔ روس کی حکمت عملی ایک طرح سے کامیاب بھی ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی پس پردہ تائید کرنے کے معاملے میں چین بھی پیچھے نہیں ہے ۔
جہاں تک روس اور یوکرین کے مابین جنگ کا سوال ہے تو دنیا بھر میں اس تعلق سے برہمی پائی جاتی ہے ۔ جس طرح سے کچھ شہروں میںہلاکتوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے اور جو رپورٹس منظر عام پر آرہی ہیں وہ افسوسناک ہے ۔ انسانی جانوں کا بے دریغ اتلاف ہو رہا ہے ۔ خواتین کی عزت و عصمت تار تار کی جا رہی ہے ۔ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے ۔ غیر انسانی حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ گرفتار کرلئے گئے قیدیوںکو ہاتھ پیٹھ پر باندھ کر گولیوں کا نشانہ بنایا جار ہا ہے ۔ والدین کے سامنے اولاد کو اور اولاد کے سامنے والدین کو موت کے منہ میںڈھکیلا کا جا رہا ہے ۔ یہ جو واقعات ہیں انہوں نے دنیا بھر کے امن پسند عوام کو بے چین کیا ہوا ہے ۔ اس صورتحال میں مغربی ممالک اور خاص طور پر ناٹو ممالک کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن کی وہ سے جنگ کو روکا جاسکے ۔ انسانی جانوںکا اتلاف مسلسل ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ سلسلہ رکنا چاہئے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب بڑی طاقتیںروس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں اور جنگ کو رکوایا جائے ۔ صرف تحدیدات عائد کرنے یا پھر تجارتی تعلقات کو منقطع کرنے سے روس کے عزائم کو بدلا نہیں جاسکتا اور جو انسانی جانوںکا اتلاف ہو رہا ہے اسے روکا جاسکتا ہے ۔ جنگی جرائم کے ارتکاب کا ہردو فریقین پر الزام عائد کیا جا رہا ہے اور اس کی تحقیقات کے مطالبات بھی کے جا رہیں ہے ۔
جو تحدیدات ناٹو اور مغربی ممالک عائد کر رہے ہیںخود ان ممالک کی جانب سے ان پر عمل کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ یہی ممالک تحدیدات کے باوجود روس سے گیس اور تیل کی خریدی کر رہے ہیں اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ خریدی جاری رہے گی کیونکہ تیل اور گیس کے بغیر ان ممالک کا گذارہ ہی ممکن نہیں ہے ۔ ہندوستان بھی روس سے رعایتی داموںپر تیل خرید رہا ہے اور وہ کسی کا دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیںہے ۔ اس صورت میںیہ واضح ہوجاتا ہے کہ محض تحدیدات کافی نہیں ہیں اور نہ ہی ان تحدیدات پر موثر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگ کو ختم کرنے اور روکنے کیلئے بڑی طاقتیں حرکت میںآئیں اور سنجیدہ کوشش کا آغاز کریں تاکہ دنیا میں امن قائم ہوسکے ۔
