جی 7 چوٹی کانفرنس کے نویں اجلاس میں وزیر اعظم ہند کی اپیل
ہیروشیما (جاپان) : وزیر اعظم نریندر مودی نے روس۔یوکرین تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے دنیا کے سات سب سے زیادہ خوشحال اور طاقتور ممالک کو بدھ مت کے پیغام پر عمل کرنے کی اپیل کی جس کے مطابق ، ‘‘دشمنی سے دشمنی ختم نہیں ہوتی۔ دشمنی وابستگی سے ختم ہوتی ہے ۔مودی نے جی 7 چوٹی کانفرنس کے دوسرے دن نویں اجلاس میں اپنے ابتدائی کلمات میں یہ اپیل کی۔ نویں سیشن میں عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے موضوع پر بحث میں روس اور یوکرین کا موضوع غالب رہا۔ مودی نے روس۔ یوکرین تنازعہ کو ٹالنے میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی اداروں میں اصلاحات کا پرزور مطالبہ کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر جوزف آر بائیڈن، برطانوی وزیر اعظم رشی سونک، فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں، جرمن چانسلر اولوف شولز، جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البنیز بھی موجود تھے ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ آج ہم نے صدر زیلنسکی کو سنا۔ کل میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ میں موجودہ حالات کو سیاست یا معیشت کا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ میرا خیال ہے کہ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے ، انسانی اقدار کا مسئلہ ہے ۔ ہم نے شروع سے کہا ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے اور اس صورت حال کو حل کرنے کے لئے ، ہندوستان سے جو کچھ بھی ہوسکے گا، ہم پوری کوشش کریں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ عالمی امن، استحکام اور خوشحالی ہم سب کا مشترکہ مقصد ہے ۔ آج کی منحصر دنیا میں، کسی بھی ایک خطے میں کشیدگی تمام ممالک کو متاثر کرتی ہے اور ترقی پذیر ممالک، جن کے پاس وسائل محدود ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال کی وجہ سے خوراک، ایندھن اور کھاد کے بحران کا سب سے زیادہ اور سب سے گہرزاثر انہیں ممالک کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔
مودی کی رشی سونک اور لولا ڈی سلوا
کے ساتھ دو طرفہ بات چیت
ہیروشیما (جاپان): وزیراعظم نریندر مودی نے آج G-7 چوٹی کانفرنس کے موقع پر برطانوی وزیراعظم رشی سونک اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا کے ساتھ الگ الگ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق برطانوی وزیراعظم سونک کے ساتھ دونوں رہنماؤں نے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے ) پر جاری بات چیت میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت اور سرمایہ کاری، سائنس اور ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم اور عوام سے عوام کے تعلقات جیسے وسیع شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ مودی نے G20 چوٹی کانفرنس کیلئے وزیراعظم سونک کو نئی دہلی آنے کی دعوت دی۔ مودی نے برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا سے پہلی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال ہندوستان۔برازیل کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا اور اسے مزید گہرا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ خاص طور پر دفاعی پیداوار، تجارت، فارماسیوٹیکل، زراعت، ڈیری اور مویشی پروری اور بائیو فیول وو صاف توانائی کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا گیا۔ مودی نے اس سال ستمبر میں G20 چوٹی کانفرنس کیلئے صدر لولا ڈی سلوا کو بھی مدعو کیا۔
مودی نے ہیروشیما پیس میموریل میوزیم کا دورہ کیا
ہیروشیما: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہیروشیما میں G7 سربراہی اجلاس میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ پیس میموریل میوزیم کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے میوزیم میں مہمانوں کی کتاب پر دستخط کیے۔ مودی سمیت تمام لیڈروں نے ایٹم بم کے متاثرین کیلئے بنائی گئی یادگار پر بھی خراج عقیدت پیش کیا۔بعد میں مودی نے ٹویٹ کیاکہ آج صبح ہیروشیما میں پیس میموریل میوزیم اور ہیروشیما پیس میموریل پارک کا معائنہ کیا۔ یہ یادگار اور میوزیم دوسری جنگ عظیم میں 6 اگست 1945 کو ہیروشیما پر ایٹم بم حملے میں اپنی جانیں گنوانے والوں کی یاد میں بنایا گیا ہے ۔ میوزیم کی تعمیر فروری 1951 میں شروع ہوئی اور حملے کے ٹھیک 10 سال بعد 6 اگست 1955 کو عوام کیلئے کھول دیا گیا۔