روس ۔ یوکرین جنگ:دنیا کی ایک اور آزمائش

   

پروین کمال
روس۔ یوکرین جنگ شروع ہوئے تقریباً 14 مہینے کا عرصہ ہورہا ہے لیکن حالات معمول پر آتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ تبصرہ نگاروں کی طرف سے جو پیشن گوئیاں ہوئی تھیں کہ یہ جنگ بہت دیر تک چلے گی تو وہ سب کچھ سچ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ اس وقت جو حالات ہورہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فی الحال امن قائم ہونا مشکل ہے کیونکہ دونوں ہی ملک اپنے بڑھے ہوئے قدم پیچھے لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ یوکرینی باشندے اپنے ملک کیلئے لڑنے اور جانوں کا نذرانہ دینے کیلئے تیار ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس آمرانہ ملک میں سانس لینا تک گوارا نہیں کرتے ۔ ان کا عہد ہے کہ روس کے خلاف ہماری جنگ نسل در نسل چلے گی ۔ واقعی اپنے ملک کیلئے جوش و ولولہ ان کی حب الوطنی کا بہت بڑا ثبوت ہے لیکن سمت مخالف سے آنے والی مسموم ہواؤں سے مقابلے کی طاقت بھی ہونی چاہئے ۔ حالات کی سنگینی کا لحاظ کرتے ہوئے اس وقت مذاکرات سے مسائل حل کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان جو کچھ ہورہا ہے اسے دیکھتے ہوئے قیاس کیا جارہا ہے کہ آئندہ بھی ان دونوں میں اچھے تعلقات قائم نہیں ہوسکیں گے ۔ دراصل اس جنگ کی ابتاء بہت پہلے ہوچکی تھی ۔ جب روس نے 2014 ء میں ’’کیرمیا‘‘ سے الحاق کے تنازعہ پیدا کردیا تھا ۔ دونوں ملک کے درمیان یہ خلیج اسی وقت پیدا ہوگئی تھی جو آج جنگ کی شکل اختیار کرچکی ہے اور پھر ایک اور وجہ بھی واضح طور پر نظر آتی ہے کہ انہی دنوں روس نے اپنی پانچ متحدہ ریاستوں کے ساتھ ملکہ یوکرین کی ایک اور آزاد ریاست زبردستی چھین کر روس کا حصہ بنالیا تھا ۔ اس کے بعد تنازعات بڑھنے لگے اور یہیں سے جنگ کی شروعات ہوئی۔ یوکرین اس بات کو لے کر پریشان ہے کہ کہیں روس آہستہ آہستہ پورے یوکرین پر قبضہ نہ کرلے۔ لہذا اس نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کردیں اور یوں جنگ کے شعلے بڑھک اٹھے ۔ غرض اس وقت صورتحال یہ ہے کہ روسی حملوں کی وجہ سے یوکرین مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ اگرچہ کہ صدر روس کہتے ہیں کہ وہ ہمارا پڑوسی ملک ہے اور ہماری یونین کا رکن بھی رہ چکا ہے ہم اس کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھیں گے لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ یوکرین کھنڈر بن چکا ہے اور اب ان حالات میں ایک اور نیا موڑ آگیا ہے ۔ روس کی طرف سے یوکرینی بچوں کو اغواء کرنے کی مہم شروع ہوچکی ہے جو یقیناً یوکرینی عوام کی نسل کشی کے مماثل ہے ۔ اس کی طاقت توڑنے کا ایک بہت بڑا حربہ ہے ۔ اس کے علاوہ ’’بیلا روس‘‘ میں حالیہ جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کا اعلان ایک اور دھمکانے والا قدم ہے ۔ حالانکہ پہلی بار ایسا ہواہے کہ روس نے اپنے جوہری اثاثے بیرون ملک منتقل کئے ہیں لیکن اس سے خطرے کے زیادہ امکانات پیدا ہوگئے ہیں ۔ ان دونوں وجوہات کی بناء پر عالمی فوجداری عدالت نے پوٹن کے نام گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے ۔ یہ خبر دنیا کیلئے انتہائی حیرت انگیز ہوگی کہ اتنی بڑی مملکت کے صدر ماضی کے سپر پاور اور جوہری ہتھیاروں کے بادشاہ کہلانے والے کیا وہ بحیثیت مجرم عدالت کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے ؟ اب اگر حقیقت کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو حق اور انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ ایسا ہونا چاہئے کیونکہ انصاف کا دائرہ بہت تنگ ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی رد و بدل کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ ہر خاص و عام کو ایک عام آدمی کے معیار پر رکھ کر تولا جاتا ہے اور فیصلہ دے دیا جاتا ہے ۔ اسی کا نام عدل ہے ۔ غرض اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگی مقابلے میں کون زیادہ مضبوط اور مستحکم ثابت ہوتا ہے ۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ وہ اب کبھی نہیں اٹھ سکے گا ۔ کبھی کبھی حالات اس کے برعکس بھی ہوجاتے ہیں ۔ آپ ایٹم زدہ جاپان کو ہی لیجئے ۔ مکمل تباہی کے بعد بھی آج از سر نو اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں نظریں نہیں پہنچ سکتیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں وہ ٹکنالوجی کا باوا آدم مانا جاتا ہے ۔ دنیا کا کوئی گھر ایسا نہ ہوگا جہاں اس کی بنائی ہوئی کوئی چیز نہ ہو۔ حد یہ کہ ہوائی جہاز کے مخصوص پرزے تک جاپان کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ عالمی جنگ کے بعد اس نے اپنے تباہ شدہ ملک کی تعمیر نو کیلئے اپنی فنی صلاحیتوں کا غیر معمولی استعمال کیا۔ یہ نہیں کہ پرانے نجیئے ادھیڑنے کی کوشش میں اپنے ملک کو نظر انداز کر کے مزید تباہی کے راستے پر ڈال دے۔ اس کے بجائے اس نے اپنے ملک کو نئے طریقے سے تعمیر کرنے میں لگادیا اور کامیاب رہا اور آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت کہلاتا ہے اور ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہے ۔ ایٹمی تباہی کی جب بات چلتی ہے تو بحرالکاہل کے اس چھوٹے سے جزیرے پر ٹوٹی ایٹمی قیامت کو بھی ہم نہیں بھول سکتے جس پر آج سے ستر سال پہلے ایٹمی تجربہ کیا گیا تھا ۔ اس خوبصورت سے ’’بکنی جزیرے‘‘ میں صرف 82 انسان آباد تھے ۔ وہ اتنے بھولے اور معصوم تھے جنہیں باہر کی دنیا کا کوئی علم نہیں تھا ۔ ایک صبح انہوں نے دیکھا جھیل کے پانی سے تیز روشن سورج نکل رہا ہے اور پھر وہ آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے اور اس میں سے کئی چھتریاں نکل کر اوپر کی طرف جاتی ہیں۔ وہ معصوم لوگ یہ سمجھے کہ ان کے دیوتا ان چھتریوں پر بیٹھ کر آسمان سے زمین پر آرہے ہیں لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اچانک ایک مہیب آواز سنائی دی اور پھر ان کے گھروں کی چھتیں اڑنے لگیں۔ پانی ابل کر جزیرے میں تیزی سے پھیلنے لگا اور پھر گرم گرم راکھ ان پر بارش کی طرح برسنے لگی ۔ وہ سب دیکھتے ہی دیکھتے ڈھیر ہوگئے کیونکہ ان معصوم انسانوں میں نہ تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اتنا وقت تھا ۔ چوتھے دن ان ادھ مرے انسانوں کو بچانے کیلئے سفید فام سپاہی پہنچے اور اپنے ساتھ لے گئے ۔ تب تک ان کے جسموں میں زہر پھیل چکا تھا ۔ انہیں علاج کر کے بچا تو لیا گیا لیکن افسوس ان کی عورتیں برسوں ایسے بچوں کو جنم دیتی رہیں جن کے جسم میں کوئی ہڈی نہیں اور بعض کے تو چہرے ہی غائب۔ کچھ دن بعد وہ مرجاتے تھے ۔ یہ ایٹمی زہر کا اثر تھا ۔ ان معذور بچوں میں سے اگر کوئی بچ بھی جائے تو پوری زندگی معذور ہی رہتا تھا جس کا کوئی علاج ممکن نہیں تھا ۔ گزشتہ دور کے بعد ایٹمی نقصانات آج کے دور کے لئے ایک مفید درس ہیں۔ اس پر تاریخیں لکھی گئیں۔ نئی نسلوں کو جگانے کیلئے ادیبوں اور شاعروں نے جوشیلی تحریریں اور نظمیں لکھیں لیکن آج وقت جن کے ہاتھ میں ہے وہ وقت کا صحیح استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ نتیجہ میں جنگیں وجود میں آرہی ہیں۔ جنگ عظیم کا خاتمہ جب ہوا تو سب نے مل کر ایک عہد کیا تھا ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے فارمولے پر عمل کریں گے اور دنیا میں امن قائم کریں گے لیکن وہ نعرہ تو کب کا ’’طاق نسیاں‘‘ ہوکر رہ گیا ۔ اس دور کے علم سے آراستہ دانشمند انسانوں کو کیا اب بھی یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ جنگیں تباہی اور بربادی ، عمارتوں کے ٹوٹے ہوئے کھنڈر اور ان میں دھنسی ہوئی خون میں لت پت لاشوں کے سوا کچھ نہیں دے سکتیں۔ روسی سائنس داں ’’آندرے سخاروف‘‘ کا ذکر یہاں بے معنی نہ ہوگا ۔ وہ روس کے پہلے ہائیڈروجن بم کے خالق تھے۔ روس کے جوہری پروگرام کا ایک اہم ستون ہونے کے باوجود انہوں نے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور اس کی تخفیف کیلئے سخت جدوجہد کی تھی لیکن نتیجہ وہی ۔ سچ بولنے اور سچائی کا راستہ دکھانے والوں پر تختہ دار پر پہنچادیا جاتا ہے ۔ ان کا بھی یہی انجام ہوا ۔ بحر کیف وقت نے ہمیں بہت سارے تجربات دیئے ۔ اب یہ تو ہم پر منحصر ہے کہ ہم کہاں تک اس پر عمل کرتے ہیں۔