روہت اور کوہلی کپتان گل کیلئے سود مند :رائنا

   

نئی دہلی، 11 جون (آئی اے این ایس) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کرکٹر سریش رائنا نے کہا ہے کہ 2027 کے ونڈے ورلڈ کپ میں کپتان شبمن گل کے لیے روہت شرما اور ویراٹ کوہلی جیسے تجربہ کارکھلاڑیوں کی موجودگی انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق دونوں سینئرکھلاڑیوں کا تجربہ اور قیادت کی صلاحیتیں ٹیم کو مشکل مواقع پر کامیابی دلانے میں مددگار ہوں گی۔ رائنا نے جیو اسٹار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویراٹ کوہلی اور روہت شرما محدود اوورزکی کرکٹ میں اب بھی ہندوستان کے مضبوط ترین ستون ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ سفید گیند کی کرکٹ میں کوہلی کی فٹنس اور فارم متاثر کن ہے، جبکہ روہت شرما بھی عالمی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا بارہا لوہا منوا چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2019 کے ونڈے ورلڈکپ میں روہت شرما 648 رنز بنا کر سب سے زیادہ رنز اسکور کرنے والے بیٹر رہے تھے۔ اس ٹورنمنٹ میں انہوں نے پانچ سنچریاں اسکور کرکے ایک ورلڈ کپ ایڈیشن میں پانچ سنچریاں بنانے والے دنیا کے پہلے بیٹر کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اسی طرح 2023 کے ورلڈ کپ میں ویراٹ کوہلی نے 11 اننگز میں ریکارڈ 765 رنز بناکر نہ صرف سب سے زیادہ رنز اسکور کیے بلکہ سچن تنڈولکر کے ایک ورلڈ کپ ایڈیشن میں 673 رنز کے تاریخی ریکارڈ کو بھی توڑ دیا تھا۔ شاندار کارکردگی پر انہیں ٹورنمنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ رائنا نے کہا بڑے ٹورنمنٹس میں تجربہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ نوجوان کھلاڑی روہت اورکوہلی کی رہنمائی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ شبمن گل کے لیے ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ میں ان دونوں کی موجودگی بہت بڑا فائدہ ہوگی۔ میدان کے اندر اور باہر ان کا تجربہ ٹیم کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔علاوہ ازیں سابق کپتان اور ہیڈ کوچ انیل کمبلے نے بھی شبمن گل کی قیادت کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کپتانی کا دباؤ ان کی بیٹنگ پر اثر انداز نہیں ہوا۔کمبلے نے کہا کہ انڈین پریمیئر لیگ میں گل نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جہاں انہوں نے بولروں کا مؤثر استعمال کیا اور دباؤکے لمحات میں درست فیصلے کیے۔ ان کے مطابق اکثرکھلاڑی کپتانی سنبھالنے کے بعد فارم کھو بیٹھتے ہیں، لیکن گل کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہا، قومی ون ڈے ٹیم انتہائی مضبوط ہے۔ روہت شرما اور وراٹ کوہلی جیسے تجربہ کار کھلاڑی شبمن گل کو میدان میں حکمت عملی بنانے، فیلڈ سیٹنگ اور بولنگ میں تبدیلی جیسے اہم فیصلوں میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس لیے گل کو تمام ذمہ داری اکیلے نہیں اٹھانی پڑے گی۔