رکن پارلیمنٹ کڑپہ اویناش ریڈی کو سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں

   

ضمانت قبل از گرفتاری درخواست کی ہائی کورٹ کے وکیشن بنچ پر 25 مئی کو سماعت کی ہدایت
حیدرآباد۔/23 مئی، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے کڑپہ کے رکن پارلیمنٹ اویناش ریڈی کو سی بی آئی سے گرفتاری معاملہ میں کوئی راحت دینے سے انکار کردیا اور اس معاملہ کو دوبارہ تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے 25 مئی کو وکیشن بنچ پر سماعت کی ہدایت دی۔ سابق وزیر وائی ایس ویویکانند ریڈی قتل کیس میں سی بی آئی کی جانب سے گرفتاری کے اندیشہ کے تحت رکن پارلیمنٹ اویناش ریڈی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کے بعد جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ضمانت قبل از گرفتاری کی منظوری سے انکار کیا۔ رکن پارلیمنٹ نے سی بی آئی کی گرفتاری سے کم از کم ایک ہفتہ کیلئے راحت دینے کی درخواست کی تھی۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق احکامات کی اجرائی کیلئے ہائی کورٹ کو آخر کتنا وقت چاہیئے۔ عدالت نے ہائی کورٹ کی وکیشن بنچ پر 25 مئی کو سماعت کرنے اور ممکن ہو تو اسی روز سماعت مکمل کرتے ہوئے احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رکن پارلیمنٹ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ وی گیری نے نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کیلئے دو تاریخیں دی ہیں لہذا سپریم کورٹ کو اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیئے۔ سماعت کے دوران بنچ نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے نوٹسوںکی اجرائی کے باوجود رکن پارلیمنٹ پیش نہیں ہوئے جس پر وی گیری نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ 7 مرتبہ سی بی آئی کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔ سی بی آئی نے 15 مئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 مئی کو حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ جس پر رکن پارلیمنٹ نے مکتوب روانہ کرتے ہوئے کم از کم تین ہفتوں کا وقت مانگا ہے۔ وائی ایس ویویکانند ریڈی کی دختر سنیتا ریڈی کے وکیل سدھارت لوترا نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ نے خود کو اپنے ایک رشتہ دار کے ہاسپٹل میں شریک کرنے کی کوشش کی اور بعد میں ایک اور ہاسپٹل میں شریک ہونے پہنچے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کل رکن پارلیمنٹ نے جو کچھ کیا وہ لاء اینڈ صورتحال بگاڑنے کی کوشش ہے جس پر بنچ نے کہا کہ یہ معاملات مسئلہ کی میرٹ سے تعلق نہیں رکھتے۔ بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے وکیشن بنچ کو 25 مئی کے دن معاملہ کی یکسوئی کرنی چاہیئے۔ بنچ نے واضح کیا کہ سابق میں دوسری بنچ کی جانب سے اس معاملہ کی سماعت کی گئی لہذا وکیشن بنچ پر سماعت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے۔ واضح رہے کہ اویناش ریڈی سی بی آئی کی گرفتاری سے بچنے کیلئے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی وائی چندر چوڑ کی زیر قیادت بنچ نے 24 اپریل کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے اویناش ریڈی کی گرفتاری روکنے کیلئے عارضی احکامات کو کالعدم کردیا تھا۔ موجودہ بنچ نے کہا کہ وکیشن بنچ کو سابقہ بنچ کی سماعت کے باوجود اویناش ریڈی کی درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے 25 مئی کو فیصلہ کرنا چاہیئے۔ر