ریاست تلنگانہ اسپیس ٹکنالوجی کے مرکز میں تبدیل کرنے کی مساعی

   

حکومت کی جانب سے تلنگانہ اسپیس ٹیک پالیسی متعارف ، 25 اکٹوبر تک تجاویز طلب
حیدرآباد ۔ یکم ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ریاستی محکمہ آئی ٹی و کمیونیکیشن نے تلنگانہ کو دنیا بھر میں خلائی ٹکنالوجی کے لیے نمبر ون منزل بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس تناظر میں متعلقہ شعبہ کے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کی شراکت سے تلنگانہ اسپیس ٹیک پالیسی کو تیار کیا ہے ۔ محکمہ آئی ٹی نے اس کا مسودہ جاری کرتے ہوئے 25 اکٹوبر سے قبل تجاویز طلب کیا ہے ۔ خلائی ٹکنالوجی عوام کی روزمرہ زندگی میں درپیش چیلنجس کو حل کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ مرکزی حکومت نے پہلے ہی اس معاملے میں اسپیس کام پالیسی 2020 اسپیس آر ایس پالیسی 2020 اور جیو اسپیشل پالیسی 2021 جاری کرچکی ہے ۔ تاکہ ہندوستانی خلائی ٹکنالوجی سیکٹر میں نجی شعبہ کو فروغ دیا جاسکے ۔ اس سے نیو اسپیس انڈیا لمٹیڈ ( این ایس آئی ایل ) اور انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھاریٹی سنٹر ( انسپیس ) جیسی کمپنیاں قائم ہوئی ہیں ۔ اس سلسلہ میں ریاستی حکومت نے خلائی مالیاتی شعبہ میں خانگی شعبہ کی مدد کے لیے تلنگانہ اسپیٹیک پالیسی کو متعارف کرایا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کو عالمی خلائی ٹکنالوجی کا مرکز بنانے کے اقدامات کررہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت کو امید ہے کاروبار ، تجارتی ترقی ، مینو فیکچرنگ کو فروغ اور اس کو ریموٹ سیننگ اپلی کیشنز کے لیے ٹسٹنگ گراونڈ بنانے اور دنیا بھر میں سرمایہ کاری اور شراکت داروں کو مدعو کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انفراسٹرکچر ، تجارتی مواقع ، مہارت کی ترقی ، تربیت اور تحقیق کے لیے کئی پالیسی ساز فیصلے کئے جارہے ہیں ۔ ٹکنالوجی کے شعبہ میں منفرد مقام رکھنے والے اننت ٹکنالوجیز ، وی ای ایم ٹکنالوجیز ، انٹر ٹکنالوجیز ، اسکائی روٹ ، دھرووا ، ڈی آر ڈی او ، این آر ایس ، آڈرین ، ڈی آر ڈی ایل ، آر سی آئی ، بی ڈی ایل ، آرڈیننس فیکٹری وغیرہ جیسی کمپنیاں حیدرآباد میں پہلے سے ہی خلائی ٹکنالوجی کے کاموں کے لیے ایک اہم مرکز بنے ہوئے ہیں ۔ مریخ مدار مشن کے تقریبا 30 فیصد اجزا ( پارٹس ) ریاست تلنگانہ میں تیار کئے جاتے ہیں ۔ جس کے پیش نظر حکومت توقع کررہی ہے کہ ریاست کی ٹکنالوجی پالیسی کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے ۔۔ ن