ریاست خشک سالی کا شکار ، گلوبل سمٹ مضحکہ خیز

   

واٹر سمٹ کی فوری ضرورت ، بی آر ایس رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجے کا بیان
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی ڈاکٹر کے سنجے نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو چیلنج کیا کہ وہ تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کے بجائے حیدرآباد میں واٹر سمٹ کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال ہے اور کسان اور عوام پریشان ہیں، ایسے میں تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کی جگہ واٹر سمٹ کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کے سنجے نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی حکومت خشک سالی کی صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برقی اور پانی کی قلت کے نتیجے میں زرعی شعبہ اور عوام پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایسے میں ریاست میں سرمایہ کاری کے نام پر گلوبل سمٹ کا انعقاد مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ وہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ریاست میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع کے بارے میں تفصیلات جاری کریں۔ عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں، ایسے میں چیف منسٹر گلوبل سمٹ کی نئی دہلی اور دیگر مقامات پر تشہیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جب عوام کو پینے کے پانی کی سربراہی میں ناکام ہے تو پھر وہ گلوبل سمٹ میں شرکت کرنے والے افراد اور سرمایہ کاروں کو کہاں سے پانی فراہم کرے گی؟ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے قیام کے بعد پانی اور برقی کی سربراہی ضروری ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کے سنجے نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ ذخائر اور آبپاشی پراجیکٹس سے پانی کے استعمال کے سلسلے میں بی آر ایس سے صلاح و مشورہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی حکومت کو بہتر تجاویز پیش کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے کوئی ترقیاتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ بی آر ایس دور حکومت میں 30 سے زائد فلائی اوورز تعمیر کیے گئے تھے اور زیر تعمیر فلائی اوورز کا چیف منسٹر افتتاح کر رہے ہیں۔1/m/b