ریاست میں ماویسٹ سرگرمیوں میں اضافہ ؟

   

حیدرآباد۔یکم ۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں ماؤسٹ سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے!گذشتہ یوم کتہ گوڑم میںہوئے انکاؤنٹر کے بعد ضلع کریم نگر میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اس کے علاوہ ماؤسٹ سرگرمیوں سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی طلایہ گردی میں اضافہ کرتے ہوئے نکسلائٹس کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے پولیس کو سختی کے ساتھ حالات سے نمٹنے اور ماؤسٹ سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کی ہدایات جاری کئے جا نے کے بعد ضلع کریم نگر اور نظام آباد کے سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا اور جنگل کے علاوہ شاہراہوں پر چوکسی اختیار کرکے تلاشی مہم کو تیز کردیا گیا ۔بتایاجاتا ہے کہ ماؤسٹ کیلئے کام کرنے والے ایک کورئیر کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو کہ ماؤسٹ نظریات کے لٹریچر کے ساتھ تھا۔بتایاجاتا ہے کہ تلاشی مہم کے دوران کملا پور کراس روڈ بھوپل پلی میں ٹی پون کمار نامی نوجوان کو حراست میں لیا گیا جو کہ ماؤسٹ ممنوعہ تنظیم کے مواد کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔مسٹر راجہ مہیندر نائک ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ تلاشی مہم کے دوران گرفتار نوجوان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم کے لئے کورئیر کا کام انجام دیتا تھا۔تفتیش کے دوران گرفتار شدہ شخص نے بتایا کہ قاسم پلی موضع کے ایک ماؤسٹ کے لئے پیغام لے جا رہاتھا ۔عہدیداروں نے گرفتار شدہ پون کمار کے متعلق بتایا کہ سابق میں پون کمار نے کئی ماؤسٹ قائدین سے تعلقات بنائے تھے اور حیدرآبادمیں قیام کرنے لگا تھا اس دوران پون کمار نے شہر حیدرآباد میں کئی اراضیات کے معاملات کئے اور دوبارہ تحریک میں سرگرم ہوگیا اور ماؤسٹوں کی جانب سے دئیے جانے والے ہدف کی تکمیل کی ہدایتیں موصول ہونے لگی تھیں اور وہ انہیں انجام دینے کیلئے بعض دیگر افراد کی مدد حاصل کر رہا تھا ۔