ریاستی یونیورسٹیز مرکز کے کامن انٹرنس ٹسٹ کے حق میں نہیں

   

54 سنٹرل یونیورسٹیز میں عمل ، کونسل فار ہائیر ایجوکیشن نے ریاستی یونیورسٹیز کیلئے مخالفت کی
حیدرآباد۔/29 مئی، ( سیاست نیوز) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے ملک کی سنٹرل یونیورسٹیز میں داخلہ کیلئے کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹسٹ کو لازمی قرار دیا گیا ۔ اسے ریاستی یونیورسٹیز تک توسیع دینے کی تجویز ہے لیکن تلنگانہ کی ریاستی یونیورسٹیز اسے قبول کرنے تیار نہیں۔ خانگی یونیورسٹیز نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ ملک کی 54 سنٹرل یونیورسٹیز بشمول یونیورسٹی آف حیدرآباد، اردو یونیورسٹی اور انگلش اینڈ فارن لینگویج یونیورسٹی انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی میں داخلے، کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹسٹ کے تحت کررہے ہیں۔ تلنگانہ کی 30 سے زائد ریاستی اور خانگی یونیورسٹیز سے کامن انٹرنس ٹسٹ کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں ۔ امتحانات نئی اسکیم کے تحت سال میں دو مرتبہ ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن اور مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلر نے کامن انٹرنس ٹسٹ کی مخالفت کی ہے اور مرکزی تعلیمی منصوبہ میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔ صدر نشین کونسل فار ہائیر ایجوکیشن آر لمبادری نے بتایا کہ مرکز تمام یونیورسٹیز کیلئے یکساں داخلہ نظام متعارف کرنا چاہتا ہے جبکہ ریاستی سطح پر انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسیس میں داخلہ کیلئے علی الترتیب 5 اور 3 برسوں کا نظام موجود ہے۔ جب یہ نظام ریاست میں موجود ہو تو پھر ہمیں کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹسٹ میں شمولیت کی ضرورت نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس نے نئے سسٹم میں شمولیت سے اختلاف کیا ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن صدرنشین کے ساتھ اجلاس میں بھی ریاستی یونیورسٹیز نے نئے منصوبہ کی مخالفت کی۔ کونسل کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں ڈگری کے داخلوں کیلئے ڈگری آن لائن سرویسس تلنگانہ (DOST) اور پوسٹ گریجویٹ کامن انٹرنس ٹسٹ آسان اور سستا ہے لہذا ریاستی یونیورسٹیز کو سنٹرل یونیورسٹیز کی طرز پر کامن انٹرنس ٹسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ نیٹ کیلئے 2000 روپئے فیس مقرر ہے جبکہ تلنگانہ میں DOST سسٹم کے تحت طلبہ کو صرف 200 روپئے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ر