ہائی کمان سے شکایت ،وینکٹ ریڈی کے نام کی تائید
حیدرآباد:کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق صدر پردیش کانگریس وی ہنمنت راؤ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ریونت ریڈی کو پردیش کانگریس کی صدارت پر فائز کیا جائے تو وہ پارٹی سے مستعفی ہوجائیں گے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ نہ صرف وہ بلکہ کئی دیگر قائدین استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ہنمنت راؤ خود پردیش کانگریس کی صدارت کے اہم دعویدار ہیں۔ انہوں نے کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو پارٹی کی صدارت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وہ ریڈی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے حق میں دستبردار ہونے کیلئے تیار ہیں لیکن ریونت ریڈی کی صدارت میں کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی خاندان سے ان کی قربت کے باوجود انہیں اہم عہدوں سے محروم رکھا گیا۔ 2018 ء سے آج تک انہیں سونیا گاندھی نے ملاقات کیلئے وقت نہیں دیا جس سے وہ کافی دلبرداشتہ ہیں۔انہوںنے کہا کہ دیگر قائدین کو دہلی طلب کیا گیا لیکن ہائی کمان نے انہیں مدعو نہیں کیا۔ دوباک اور گریٹر حیدرآباد میں شکست کی وجوہات سے واقف کرانے کیلئے وہ ہائی کمان سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی تلگو دیشم پارٹی سے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں اور انہوں نے علحدہ تلنگانہ تحریک کی مخالفت کی تھی ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور جگا ریڈی کو ترجیح دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی آر ایس ایس بیاک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ تلنگانہ میں کانگریس کو ختم کردیں گے۔ گریٹر انتخابات میں ملکاجگیری کے 48 بلدی حلقوں میں محض دو نشستوں پر ریونت ریڈی کامیابی دلا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نوٹ برائے ووٹ اور اراضیات پر قبضوں کے معاملات پر ملوث ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ ان سے مشاورت کے بغیر صدارت کے بارے میں فیصلہ کی صورت میں وہ پارٹی سے مستعفی ہوجائیں گے۔