کانگریس حکومت کے اسپیشل چیف سکریٹری اروند کمار کو میمو کی اجرائی پر جواب روانہ
حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) سابق وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے فون پر موصول ہونے والے احکام کی بنیاد پر میں نے فارمولہ ۔ای ریس کے انعقاد کے لئے 55کروڑ روپئے کی رقم جاری کرنے کے احکامات پر دستخط کئے ہیں۔ خصوصی چیف سیکریٹری و پرنسپل سیکریٹری ڈیساسٹر مینجمنٹ مسٹر اروند کمار آئی اے ایس نے 55کروڑ کی اجرائی کے معاملہ میں انہیں جاری کئے گئے میمو کا جواب ارسال کردیا ہے۔ مسٹر اروند کمار کی جانب سے چیف سیکریٹری مسز شانتی کماری کو روانہ کردہ مکتوب میں انہوں نے یہ بات کہی۔ مسٹر اروند کمار نے میمو کے جواب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں متعلقہ وزیر کے زبانی احکام موصول ہونے پر انہوں نے رقم کی اجرائی کے سلسلہ میں احکامات پر دستخط کئے تھے۔ شہر حیدرآباد میں فارمولہ ۔ای ریس کے انعقاد کے سلسلہ میں جاری کئے گئے 55 کروڑ کے متعلق چیف سیکریٹری نے حکومت کی ہدایت پر مسٹر اروند کمار کو میمو جاری کرتے ہوئے اس سلسلہ میں صفائی پیش کرنے کی تاکید کی تھی جس پر مسٹر اروند کمار نے حکومت کو روانہ کئے گئے جواب میں کہا کہ مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے زبانی احکامات وصول ہوئے تھے جس پر انہوں نے یہ رقم جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ فارمولہ ۔ای ریس جو کہ ماہ جنوری کے دوران شہر حیدرآباد میں منعقد ہونی تھی اس کے لئے رقم کی اجرائی کی ہدایت سابق وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے دی تھی۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد شہرمیں فارمولہ ۔ای ریس کے انعقاد کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے منظوری نہ دیئے جانے کے بعد پریکس نامی کمپنی نے اس ریس کو منسوخ کردیا تھا لیکن اس کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پریکس نامی کمپنی کو حکومت کی جانب سے 55کروڑ روپئے کی رقم جاری کی گئی تھی اور اس رقم کی اجرائی کے متعلق فائل موجود نہیں ہے ۔ اس انکشاف کے بعد حکومت نے اس وقت کے پرنسپل سیکریٹری بلدی نظم ونسق و صدرنشین حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی مسٹر اروند کمار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی تفصیلات طلب کی تھی۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ مسٹر اروند کمار کی جانب سے جواب موصول ہونے کے بعد اب مزید کاروائی آگے بڑھانے کے لئے حکومت کی جانب سے اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ سرکاری خزانہ سے جاری کئے گئے 55 کروڑ کی رقم کس سے وصول کی جائے ! کیونکہ سابق پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق نے اپنے موقف اور انہیں دی جانے والی زبانی ہدایت کے متعلق حکومت کو واقف کروا دیا ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ انتخابی عمل کے دوران جب کہ ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ تھاایسے میں قوانین کا پاس و لحاظ رکھے بغیر کس طرح سے یہ رقم جاری کی گئی ہے!بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے ماہرین اور محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے مسٹر اروند کمار کے جواب کا مشاہدہ کرنے اور جائزہ لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت ای۔ پریکس کو جاری کی گئی 55 کروڑ کی رقم کمپنی سے وصول کرے گی یا جاری کرنے والے عہدیدار سے اس کی وصولی عمل میں لائی جائے گی یا پھر سابق وزیر کے ٹی راما راؤ کو اس سلسلہ میں نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کی جائیں گی۔3