سابق چیف منسٹر کے رشتہ داروں کو پچھلے دروازے سے ملازمت

   

وزیر برقی کی پیشی میں ڈپیوٹیشن ۔ حاضری کے بغیر ساڑھے چھ سال تک 54 لاکھ روپئے تنخواہ دی گئی
محنت کرنے اور اسٹیڈی سرکلس میں کوچنگ حاصل کرنے والے بیروزگار نوجوانوں کا حق مارا گیا
حیدرآباد : /9 جنوری (سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر کے ارکان خاندان کو پچھلے دروازے سے ملازمت فراہم کی گئی ۔ دفترکو حاضری کے بغیر اور کوئی کام نہ کرنے کے باوجود ساڑھے چھ سال میں 54 لاکھ روپئے تک تنخواہ فراہم کردی گئی ہے ۔ بی آر ایس کے اقتدار سے محروم ہوتے ہی آہستہ آہستہ کئی بے قاعدگیاں منظر عام پر آرہی ہیں ۔ ریاست میں لاکھوں بیروزگار نوجوان ہیں جو ملازمتوں کیلئے اضلاع سے گھر چھوڑکر شہر میں ہاسٹلس اور کرایہ کے گھروں میں رہ کر اسٹیڈی سرکلس میں بھاری فیس ادا کرکے ملازمتوں کے تحریری و زبانی امتحانات میں شرکت کی کوچنگ حاصل کررہے ہیں ۔ باوجود اس کے کئی نوجوانوں کو ملازمت حاصل نہیں مل پا رہی ہے ۔ لیکن سابق چیف منسٹر کی رشتہ دار ایک خاتون کو کسی امتحان کے بغیر جینکو میں ملازمت فراہم کردی گئی ۔ /29 جولائی 2017 کے دوران انہیں جنیکو میں اسسٹنٹ انجنیئر (الیکٹریکل ) کی ملازمت فراہم کی گئی ۔ ساڑے چھ سال تک انہیں وزیر برقی کی پیشی میں ڈپیوٹیشن پر متعین کیا گیا ۔ ساڑھے چھ سال تک اس خاتون نے ایک مرتبہ بھی ڈیوٹی کیلئے حاضری نہیں دی تاہم وزیر برقی کی پیشی سے ڈیوٹی پر حاضری کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا جس کی بنیاد پر جینکو نے انہیں تنخواہ جاری کی ہے ۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد اس خاتون ملازمہ کو ڈیوٹی سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس طرح پچھلے دروازے سے ملازمت فراہم کرکے ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے کے باوجود 54 لاکھ روپئے تک تنخواہ ادا کرنے کا واقعہ منظر عام پر آیا ہے ۔ سابق چیف منسٹر کی رشتہ دار ہونے کی وجہ کوئی عہدیدار اس میں مداخلت کرنے کی جرأت نہ کرسکا ۔ اس طرح سابق چیف منسٹر کی ایک اور رشتہ دار جس کا سدی پیٹ سے تعلق ہے 2017 میں ٹرانسکو میں ملازمت فراہم کرنے کا ایک اور واقعہ بھی منظر عام پر آیا ہے ۔ اس خاتون کو کنٹراکٹ اساس پر ایگزیکٹیو اسسٹنٹ (اے ای) کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور آرٹیسن انصمام کے تحت ٹرانسکو میں ان کی خدمات سے استفادہ کیا گیا ۔ بعد میں انہیں آرٹیسن کوٹہ کے تحت اسسٹنٹ انجنیئر کی ملازمت فراہم کی گئی ۔ سابق چیف منسٹر کے ارکان خاندان کی یہ خواتین بی ٹیک گریجویٹ ہیں ۔ کئی لوگوں نے ان دونوں کی ملازمت کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے آر ٹی آئی درخواستیں داخل کی تھی مگر عہدیداروں نے کوئی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ ان دو واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ مگر دوسری جانب سے ٹرانسکو اور جنیکو نے اس مسئلہ پر ابھی کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے ۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد جہاں ایک طرف مختلف محکمہ جات میں بے قاعدگیاں ، بے ضابطگیاں اور بدعنوانیاں ایک ایک کرکے منظر عام پر آرہی ہیں وہیں دوسری جانب حکام کی جانب سے تمام ریکارڈس کو تباہ کرنے اور مٹانے کی کوشش کی شکایت مل رہی ہیں ۔ پرنسپل سکریٹری محکمہ برقی رضوی نے تمام ریکارڈس کو محفوظ رکھنے تحریری احکامات جاری کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ یادادری تھرمل پلانٹ کے چھتیس گڑھ سے برقی معاہدے سے متعلق ریکارڈس بھی غائب ہوجانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔ 2