سالار جنگ میوزیم اور عثمانیہ ہاسپٹل میں کتنے مسلمان ملازمت کرتے ہیں ؟

   

پھر اسد اویسی کے ہاتھ میں اسٹیرنگ، ریاست کے دیگر علاقوں کا حال کیا پوچھیں؟ مسلمانوں کی بھلائی سے زیادہ ’ ماموں‘ کی کامیابی کی فکر
حیدرآباد۔/29 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کسی بھی حکومت یا پھر ادارہ کا ’اسٹیرنگ‘ ہاتھ میں ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسٹیرنگ پر کنٹرول کرنے والا اپنے فیصلے خود کرسکے اور عوام کی بھلائی ہو۔ لیکن تلنگانہ میں حکومت کے اسٹیرنگ پر کنٹرول کا دعویٰ کرنے والی حلیف جماعت مجلس کے دعوؤں پر عوام ہنس رہے ہیں۔ حکومت کا اسٹیرنگ اپنے ہاتھ میں ہونے کا فائدہ پرانے شہر کے عوام کو ہونا چاہیئے تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیرنگ صرف اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ہاتھ میں رکھا گیا ہے اور حکومت بھی مسلمانوں سے زیادہ حلیف جماعتوں کو خوش کرنے میں مصروف ہے۔ کوئی بھی حکومت اپنی حلیف جماعت کے مطالبات کو یقینی طور پر قبول کرتی ہے اور مرکز و ریاستوں میں یہ دیکھا گیا کہ برسراقتدار پارٹی کی حلیف جماعتوں نے اپنے علاقوں میں عوام کی بھلائی کے کئی اقدامات پر حکومتوں کو مجبور کیا۔ برسراقتدار پارٹی سے ایسی مفاہمت کس کام کی جس میں پرانے شہر کے عوام کا بھلا نہ ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مجلس جس علاقے کی نمائندگی کرتی ہے وہاں ترقی اور خوشحالی کے معاملہ میں کوئی خاص تبدیلی دکھائی نہیں دیتی حالانکہ گذشتہ 9 برسوں میں مجلسی قیادت اور اس کے قائدین کی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عام جلسوں میں حکومت کے اسٹیرنگ سنبھالنے کا دعویٰ کرنے والوں پر ان کے رائے دہندے ہنس رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے اسٹیرنگ کنٹرول سے کیا فائدہ جہاں حکومت کی کار پرانے شہر میں داخل ہوکر عوام کے فائدہ کا سبب نہ بن سکے۔ پرانے شہر میں 2 اہم ادارے سالارجنگ میوزیم اور عثمانیہ ہاسپٹل موجود ہیں جو دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ حکومت پر کنٹرول کا دعویٰ کرنے والی قیادت نے دونوں اداروں میں کتنے مسلمانوں کو روزگار فراہم کیا یہ بنیادی سوال ہے۔ ایک طرف مرکز تو دوسری طرف ریاست دونوں سے مقامی جماعت کی قیادت کے مبینہ خوشگوار مراسم سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جہاں تک پرانے شہر کے عام مسلمانوں کو روزگار کی فراہمی یا پھر علاقوں کی ترقی کا معاملہ ہو تو ان کیلئے صرف وعدے اور تیقنات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ سالار جنگ میوزیم و عثمانیہ ہاسپٹل میں ملازمین ہزاروں میں ہیں لیکن وہاں مسلمانوں کا فیصد نہیں کے برابر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں اداروں میں ہر سال مسلمانوں کی تعداد میں کمی ہورہی ہے اور وظیفہ پر سبکدوش ہونے والوں کی جگہ دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والوں کا تقرر کیا جاتا ہے۔ پرانے شہر میں واقع مرکزی اور ریاستی حکومت کے اداروں میں مسلم نمائندگی مایوس کن ہے۔ حکومت کا اسٹیرنگ سنبھالنے والے قائدین سے عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب ان کے علاقوں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ داری نہیں دلائی جاسکی تو پھر ریاست کے دیگر علاقوں کا کیا حال ہوگا۔ الیکشن کے اعلان کے بعد اضلاع کے مسلمانوں میں برسراقتدار پارٹی کے حق میں تائیدی مہم کا آغاز کردیا گیا۔ گذشتہ دنوں ظہیرآباد میں جلسہ سے خطاب میںصدر مجلس نے ایکٹنگ کے ذریعہ کار اور پتنگ کو ووٹ دینے عوام سے اپیل کی۔ پرانے شہر کے ووٹرس کا کہنا ہے کہ پہلے اپنے ووٹرس سے ہر شعبہ میں انصاف کریں اور بعد میں اضلاع میں ’ ماموں‘ کی تائید میں مہم چلائیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت کو مسلمانوں سے زیادہ ’ ماموں‘ کی کامیابی کی فکر ہے کیونکہ ماموں کے ہیٹ ٹرک کی صورت میں عوام سے زیادہ قیادت کے مفادات کی تکمیل ہو