نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو کچھ نیوز چینلز بشمول سدرشن نیوز، یوٹیوب، گوگل اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکو ان خبروں کے لنکس کو ہٹانے کی ہدایت دی ہے جس میں ایک مسلمان مرد پر ایک عورت کو زبردستی اسلام قبول کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ عدالت کا یہ حکم ’’دی کیرالا سٹوری‘‘ پر ایک تنازعہ کے درمیان آیا ہے۔ یہ فلم ریاست کیرالا کی چار خواتین سے متاثر ہے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنے شوہروں کے ساتھ آئی ایس میں شامل ہونے کیلئے افغانستان کا سفر کیا۔ جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ عرضی گذار عظمت علی خان کی درخواست پر سنوائی کررہے تھے جس میں 19 اپریل کو ان کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ درج ہونے کے بعد آن لائن پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والے خبروں کے مواد اورکلپس کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دہلی کی ایک خاتون نے ان پر جبری مذہب تبدیل کروانے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ عظمت خان کی دلیل کے مطابق دہلی پولیس اب ان کیخلاف لگائے گئے الزامات کی جانچ کر رہی ہے اور ریکارڈنگزکا عوامی طور پر جاری ہونا آزاد تحقیقات اور عظمت خان کی حفاظت اور سلامتی دونوں کیلئے سنگین خطرہ ہے جبکہ گوگل نے زور دیکر کہا کہ ویڈیوزکے تخلیق کاروں کو سنا جانا چاہیے کیونکہ ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جا چکی ہے۔نیوز براڈکاسٹنگ اور ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ جواب دینے والے نیوز چینلز میں سے کوئی بھی نیوز براڈکاسٹرز اور ڈیجیٹل اسوسی ایشن کا رکن نہیں ہے۔
