سمیت غذا کے حالیہ واقعات پر حکومت سے رپورٹ طلب، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کمیٹیوں کی تشکیل سے واقف کرایا
حیدرآباد ۔5۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے سرکاری اسکولوں میں غیر معیاری غذا کی سربراہی کے معاملہ کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ سرکاری اسکولوں میں صحت بخش اور معیاری غذا کی سربراہی کو یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس سرینواس راؤ پر مشتمل بنچ نے سرکاری اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کی ناقص سربراہی سے سمیت غذا کے واقعات کے سلسلہ میں دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں غذا کی سربراہی کے سلسلہ میں جو ہدایات جاری کی ہیں، ان پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی کہ حالیہ دنوں میں اسکولوں میں سمیت غذا کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 6 ہفتوں میں مقرر کی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عمران خاں نے عدالت کو بتایا کہ غیر معیاری غذا کی سربراہی کو روکنے کے لئے حکومت نے دو علحدہ کمیٹیاں تشکیل دی ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آئے واقعات کے ذمہ دار عہدیداروں کو معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کو دوپہر کے کھانے کی معیاری سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ ایجنسی کو 40 فیصد زائد رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کھانا سربراہ کرنے والی ایجنسی کی رقم میں اضافہ کا مقصد غیر معیاری غذا کی سربراہی کو روکنا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ سی ایس پربھاکر نے حالیہ عرصہ میں سمیت غذا کے واقعات سے طلبہ کی صحت متاثر ہونے اور ایک طالبہ کے فوت ہونے کی تفصیلات سے عدالت کو واقف کرایا ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ معیاری غذا کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے مواضعات، منڈل ، ضلع اور ریاستی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیوں کی موثر نگرانی میں تساہل کے نتیجہ میں اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ حکومت کی تشکیل شدہ کمیٹیوں کو موثر کارکردگی کی ہدایت دی جائے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو تیقن دیا کہ غذا کی جانچ اور سربراہی کی نگرانی کرنے والی کمیٹیوں کو متحرک کیا جائے گا تاکہ سمیت غذا کے واقعات کا تدارک ہوسکے۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے بیان کا نوٹ لیتے ہوئے اس مقدمہ کی سماعت کو آئندہ کیلئے ملتوی کردیا۔ واضح رہے کہ سرکاری اسکولوں میں سمیت غذا کے واقعات پر ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں حکومت کو سخت احکامات جاری کئے تھے۔ عدالت نے یہاں تک کہا تھا کہ عہدیدار کی لاپرواہی کے نتیجہ میں اس طرح کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ عدالت نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو فرائض کی موثر انداز میں ادائیگی کی ہدایت دی۔ 1