سرکاری اور خانگی اسکولوں کا آغاز، طلبہ کی واپسی سے جشن کا ماحول

   

وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے محبوبیہ اسکول کا دورہ کیا، انگلش میڈیم تعلیم میں طلبہ کو دشواری نہیں ہوگی
حیدرآباد۔13۔ جون (سیاست نیوز) گرمائی تعطیلات کے بعد تلنگانہ میں آج سے اسکولوںکی کشادگی عمل میں آئی۔ تعلیمی سال 2022-23 ء کیلئے سرکاری اور خانگی اسکولوں میں آج سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوچکا ہے۔ چھٹیوں کے بعد اسکول واپسی کے مرحلہ پر اسکولوں میں جشن کا ماحول تھا جبکہ پہلی مرتبہ اسکول پہنچنے والے کمسن بچوں میں ملا جلا ردعمل دیکھا گیا۔ اسکولوں کے پاس والدین اور سرپرست اپنے بچوں کو پہلے دن اسکول پہنچاتے ہوئے دیکھے گئے۔ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے آج گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول محبوبیہ کا دورہ کرتے ہوئے اسکول واپس ہونے والی طالبات سے ملاقات کی۔ حکومت نے جاریہ تعلیمی سال پہلی تا آٹھویں جماعت سرکاری اسکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم کا آغاز کیا ہے۔ سرکاری اور مجالس مقامی کے اسکولوں میں آج سے انگلش میڈیم تعلیم دی جائے گی۔ ریاست میں 1.04 لاکھ گورنمنٹ ٹیچرس کو عظیم پریم جی یونیورسٹی میں انگلش میڈیم تعلیم کی ٹریننگ دی گئی۔ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں انگلش اور تلگو کے نصابی کتب مفت فراہم کئے جائیں گے جبکہ دوپہر کے کھانے کا بھی نظم رہے گا۔ تلنگانہ میں سرکاری اور خانگی مسلمہ اسکولوں کی تعداد 41392 ہے۔ اسی دوران وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ انگلش میڈیم تعلیم سے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خانگی اسکولوں کے معیار کے مطابق سرکاری اسکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم کا انتظام رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے تابناک مستقبل کے حق میں ہے۔ انہوں نے محبوبیہ گرلز ہائی اسکول میں سہولتوں کا جائزہ لیا۔ مختلف کلاسس کا معائنہ کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے طالبات سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں سے بات چیت کرچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوںکی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جاریہ سال سرکاری اور خانگی اسکولوں کے طلبہ کے درمیان مسابقت رہے گی۔ سرکاری اسکولوں میں ابھی تک 75 ہزار سے زائد نئے طلبہ نے داخلہ لیا ہے۔ 9000 کروڑ کے قرض سے 26000 سرکاری اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں 4 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں اور اقامتی اسکولوں کے معیار میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے داخلہ کے لئے عوامی نمائندوں کے ذریعہ سفارش کی جارہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاریہ تعلیمی سال سرکاری اسکولوں کے نتائج کافی بہتر رہیں گے ۔ ر