سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کا نیا یونیفارم

   

کلر وہی ڈیزائن تبدیل، محکمہ تعلیم کا فیصلہ ،140 کروڑ روپئے کے مصارف
حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) محکمہ اسکولی تعلیم نے ریاست میں اسکولی طلبہ کو دیئے جانے والے یونیفارم کے ڈیزائن میں تبدیلی لائی ہے۔ یونیفارم کا رنگ تبدیل کئے بغیر صرف ڈیزائن کو تبدیل کیا گیا ہے۔ کارپوریٹ اسکولس کی طرز پر سرکاری اسکولس کے ڈریس کوڈ میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے خصوصی طور پر تیار کئے گئے ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی ہے۔ شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنرس کے ذریعہ تخلیق کردہ نئے ڈیزائنوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان ڈیزائنس کو متعلقہ ضلعی ایجوکیشن حکام ( ڈی ای اوز ) کو روانہ کردیا گیا ہے۔ یونیفارمس کو متعلقہ ڈیزائن کے مطابق سلوائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تعلیمی سال 2023-24 میں ریاست کے 25 لاکھ طلبہ کے یونیفارمس پر 140 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں سلوائی کے ساتھ کپڑے کی قیمت بھی شامل ہے۔ ہر طالب علم کو یونیفارم کے دو جوڑے دیئے جائیں گے۔ 2 مارچ سے 30 اپریل تک مرحلہ واری اساس پر کپڑے تقسیم کئے جائیں گے۔ ڈی ای اوز کو رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے ڈیزائن کے مطابق یونیفارمس سلوانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پہلی، دوسری اور تیسری جماعت کی لڑکیوں کیلئے فراکس سلوائے جائیں گے۔ چوتھی اور پانچویں جماعت کی لڑکیوں کیلئے اسکرٹس اور قمیض سلوائی سلوائے جائیں گے۔ چھٹویں تا 12 ویں جماعت کی لڑکیوں کلئے پنجابی ڈریس سلوائے جائیں گے۔ چھٹویں تا 12 ویں جماعت کے لڑکوں کیلئے شرٹ، پینٹ؍ نیکرس سلوائے جائیں گے۔ ریاست کے سرکاری، ضلع پریشد اسکولس، امداد یافتہ، تلنگانہ کے رہائشی اسکولس کے جی بی وی اور ماڈل اسکولس کے طلبہ میں ایک ہی طرح کے یونیفارمس تقسیم کئے جائیں گے۔ پہلی تا آٹھویں جماعتوں کے طلبہ کے یونیفارمس میں مرکز کے60 فیصد فنڈز ہیں اور ریاستی حکومت کی 40 فیصد حصہ داری ہے۔9-10-11-12 جماعتوں کے طلبہ کے یونیفارمس کے تمام اخراجات ریاستی حکومت برداشت کررہی ہے۔ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے بتایا کہ تفصیلات کے بعد دوبارہ تعلیمی اداروں کی کشادگی کے ساتھ طلبہ میں یونیفارمس تقسیم کرنے تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ ن