سرکاری دواخانوں میں اب نعشوں کی بھی تذلیل

   

گدوال ضلع ہاسپٹل کا فریزر ناکارہ ، عوام میں شدید غصہ ، محکمہ صحت سے فوری کارروائی کی اپیل

گدوال۔ 20 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع جوگو لامبا گدوال ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں طبی عملے کی مجرمانہ لاپرواہی اور غفلت کا ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ہاسپٹل کے مردہ خانے میں موجودہ فریزر گزشتہ کئی دنوں سے خراب پڑے ہیں اور نعشوں کو کھلے آسمان تلے رکھنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ یہ غیرانسانی اور شرمناک واقعہ پیر کی رات اس وقت منظر عام پر آیا جب ضلع گدوال کے ہیڈکوارٹرس کے پیلی گنڈلا کالونی کے مضافات میں مقامی لوگوں کو ایک 48 سالہ نامعلوم شخص کی نعش ملی۔ رورل پولیس کو اطلاع ملتے ہی تقریباً 8:40 بجے نعش کو پوسٹ مارٹم اور شناخت کیلئے محفوظ رکھنے کی خاطر ڈسٹرکٹ ہاسپٹل کے مردہ خانہ پہونچایا تاہم وہاں موجود ڈیوٹی ڈاکٹرس نے انتہائی غیرذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے پولیس کو صاف کہہ دیا کہ مردہ خانے کے فریزر کام نہیں کررہے ہیں اور اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر نعش کو اندر نہیں رکھا جاسکتا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ رات سے لے کر اگلی صبح 9:10 بجے تک مردہ خانہ کے دروازے نہیں کھولے گئے جس کے بعد مجبوراً نعش کو مردہ خانے کے باہر کھلے ہی میں چھوڑنا پڑا۔ نعش کو اس طرح بے یار و مددگار کھلے میں پڑا دیکھ کر مقامی لوگوں اور پولیس نے فوری طور پر میڈیا کو اس کی اطلاع دی اور جیسے ہی میڈیا کے نمائندے ،ہاسپٹل پہونچے تو طبی عملے میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے اپنی خامیاں چھپانے کیلئے آناً فاناً میں اصلاحی اقدامات شروع کئے۔ اس سنگین لاپرواہی پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور لوگ حکومت اور محکمہ صحت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ اب مرنے والوں کیلئے بھی ہاسپٹل میں بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ دوسری جانب اس پورے تنازعے پر وضاحت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہاسپٹل کی انچارج سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جھانسی لکشمی نے اعتراف کیا کہ تیکنیکی خرابی کے باعث مردہ خانے کے فریزر گزشتہ چار دنوں سے بند پڑے ہیں اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیر کی رات لائی گئی نامعلوم شخص کی نعش کو عارضی طور پر باہر مارکیٹ سے حاصل کئے گئے ایک پرائیویٹ فریزر میں محفوظ کیا گیا ہے۔ مقامی عوام نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ہاسپٹل انتظامیہ کی اس غفلت پر فوری کارروائی کی جائے اور مردہ خانے کے فریزر کی جلد از جلد مرمت کروائی جائے اور نعشوں کی اس تذلیل کو روکا جائے۔2