سرکاری ملازمین کیلئے پی آر سی کا اندرون تین یوم اسمبلی میں اعلان

,

   

سکریٹریٹ کی مساجد کی دوبارہ تعمیر کا عنقریب آغاز، حیدرآباد میں اضافی برقی بلز کا جائزہ لیں گے،نالوں پر قبضوں کی برخواستگی ، اسمبلی میں چیف منسٹر کے سی آر کی تقریر

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کیلئے پی آر سی سفارشات کے بارے میں آئندہ دو تین دنوں میں اعلان کیا جائے گا ۔انہوں نے سکریٹریٹ کے احاطہ میں عبادت گاہوں کی تعمیر سے متعلق حکومت کے تیقن کو دہرایا اور کہا کہ مساجد اور مندر دوبارہ تعمیر کئے جائیں گے۔چیف منسٹر نے کہا کہ سکریٹریٹ میں مساجد کو ان کے موجودہ مقامات پر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بہت جلد تعمیری کام شروع ہوگا۔ اس سلسلہ میں کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران حیدرآباد میں جاری کئے گئے زائد برقی بلز کے مسئلہ پر وزیر برقی کو جائزہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس معاملہ میں حکومت ضرور عوام کے حق میں فیصلہ کرے گی۔ چیف منسٹر نے سیلاب کی حالیہ تباہ کاری کیلئے نالوں پر ناجائز قبضوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ کی جانب سے غیر مجاز قبضوںکی برخواستگی اور مستقبل میں اس طرح کی تباہی کو روکنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔بجٹ میں اس کیلئے درکار فنڈس فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے تلنگانہ میں فلاحی اسکیمات کے لئے درکار فنڈس کی موجودگی اور کسانوں کو قرض کی معافی اسکیم پر عمل کرنے کا اعلان کیا ۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے گزشتہ ایک سال کے دوران کمزور مالی موقف کے باوجود ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کا دعویٰ کیا ۔ چیف منسٹر نے سرکاری ملازمین کو پی آر سی پر عمل آوری کی خوشخبری دی اور کہا کہ وہ آئندہ دو تین دنوں میں اسمبلی میں پی آر سی سفارشات پر عمل آوری کا اعلان کریں گے اور یہ اعلانات ملازمین کی توقعات کے عین مطابق رہیں گے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ انہیں سرکاری ملازمین سے محبت ہے، اس کا اظہار سابق پی آر سی کے موقع پر کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اس قدر اضافہ کیا جائے گا کہ وہ سارے ہندوستان میں فخر کے ساتھ اپنی تنخواہ کا اظہار کرپائیں گے ۔ ایم ایل سی نشستوں کے نتائج کے بعد چیف منسٹر پی آر سی کے بارے میں اسمبلی میں بیان دیں گے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس عائد کیا جاتا رہا۔ ریاستی ٹیکس حکومت کیلئے آمدنی کا اہم ذریعہ ہوتا ہے ۔ کانگریس نے 40 سے 45 سال تک یہ ٹیکس وصول کیا اور اب ہم وصول کر رہے ہیں۔ کانگریس دور حکومت میں پٹرولیم اشیاء پر ٹیکس 31 تا 33 فیصد تھا جسے ٹی آر ایس حکومت نے 35 فیصد تک اضافہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کمی مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ چیف منسٹر نے زرعی شعبہ کو مفت برقی کی سربراہی ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بھلائی کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ۔ تلنگانہ میں 39.36 لاکھ افراد کو پنشن دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل کے معاملہ میں گرفتار کئے گئے ٹی آر ایس قائد کو پارٹی سے معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیم کیلئے حکومت فنڈس جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مختلف طبقات کی بھلائی کیلئے حکومت کی اسکیمات کو دہرایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل معاملہ سے ٹی آر ایس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ تلنگانہ پولیس جرائم پر قابو پانے کیلئے بہتر انداز میں کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل میں ملوث افراد کو سخت سزا کیلئے پولیس عدالتی کارروائی کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کسانوں کے قرض معافی اسکیم پر صد فیصد عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے خطبہ میں حکومت کے کئی اقدامات کا احاطہ نہیں کیا جاسکا۔ چیف منسٹر نے ریاست میں کورونا کی صورتحال کو قابو میں قرار دیا اور کہا کہ حکومت کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے کیسس کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ حکومت ہر طرح کے احتیاطی اقدامات کر رہی ہے ۔ ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ تلنگانہ میں کورونا وباء قابو میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض اقامتی اسکولوں میں کورونا کے کیسس میں اضافہ درج کیا گیا ۔ مرکز سے وقتاً فوقتاً ملنے والی ہدایات کے مطابق حکومت کورونا پر قابو پانے کے اقدامات کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد راشن کارڈس کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ۔ 2014 سے قبل 29 لاکھ راشن کارڈس تھے جبکہ ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے بعد 39 لاکھ راشن کارڈ جاری کئے گئے ۔ 200 روپئے وظیفہ کو بڑھاکر 2016 روپئے کیا گیا ۔ ریاست میں 29 لاکھ 21 ہزار 828 وظائف جاری کئے جارہے ہیں۔