کولمبو : سری لنکا کے معاشی بحران کی چکی میں پسنے والوں میں ایسی خاتون رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہیں جن کو پٹرول حاصل کرنے کیلئے 12 گھنٹے سے زائد قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ میڈیا کے مطابق سری لنکا آج کل تاریخ کے بدترین معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ 43 سالہ لاسندا دیپتی کے رکشے کی ایندھن بتانے والی سوئی جونہی نیچے کی طرف جاتی ہے وہ کوئی سواری بٹھانے سے قبل گیس سٹیشن کا رخ کرتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہاں کیا حالات ہوتے ہیں۔دو کروڑ 20 لاکھ کی آبادی والے ملک میں خواتین رکشہ ڈرائیور مشکل سے ہی دیکھنے کو ملتی ہیں تاہم دیپتی سات برس سے اپنے پانچ افراد پر مشتمل کنبے کو پالنے کے رکشہ چلا رہی ہے۔رکشے کی سواریوں کے لیے وہ مقامی ایپ ’پِک می‘ ایپ کا استعمال کرتی ہیں۔ان کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار سری لنکن روپے کے لگ بھگ ہے تاہم اب اس کا آدھے سے زیادہ حصہ صرف ایندھن کی ہی نذر ہو جاتا ہے۔