سعودی خلابازوں کی بحفاظت زمین پر واپسی

   

فلوریڈا: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر آٹھ دنوں کے تحقیقاتی مشن مکمل کرکے خلانوردوں کی ٹیم منگل کو رات گئے زمین پر بحفاظت اتر گئی۔ اس ٹیم میں دو امریکی اور پہلی مرتبہ ایک عرب خاتون سمیت دو سعودی خلا نورد شامل تھے۔دوسرے ’آل پرائیویٹ مشن‘ جس میں دو سعودی خلاباز بھی شامل ہیں خلائی سٹیشن پر آٹھ روزہ سائنسی ریسرچ کے بعد چہارشنبہ کو امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب اُترے۔سپیس ایکس کریو ڈریگن کیپسول جو انہیں لے کر آیا نے 12 گھنٹے کی واپسی کی پرواز کی۔ اور خلا سے زمین کی فضا میں داخلے کے بعد خیلج میکسیکو میں پیرا شوٹ کے ذریعے اُتارا۔ یہ علاقہ فلوریڈا کے ساحل کے قریب پانامہ سٹی میں میں ہے۔واپسی کی اس پرواز کو سپیس ایکس اور مشن کے پیچھے موجود کمپنی ایکژیوم سپیس کی طرف سے مشترکہ ویب کاسٹ کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا۔سعودی عرب نے کروڑوں ڈالر کے اس پرائیوٹ پروجیکٹ پر اپنے دو خلا بازوں ریانہ برناوی اور علی القرنی کو بھیجا تھا۔ ان کے ساتھ امریکی خلا باز پیگی وائٹسن اور جان شوفنر بھی موجود تھے۔اس مہم کی کامیابی کے ساتھ ہی ریانہ پہلی سعودی خلا باز بن گئی ہیں۔ وہ اسٹیم سیل پر تحقیقات کرتی ہیں جب کہ القرنی سعودی ایئر فورس میں لڑاکا پائلٹ ہیں۔ 1985 میں سعودی فضائیہ کے پائلٹ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے امریکہ کے زیر اہتمام خلائی سفر میں حصہ لیا تھا جو خلا میں جانے والے پہلے سعودی بن گئے تھے۔