قاہرہ، 22 اکتوبر (یواین آئی): مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے درخواست کیے جانے پر مصری فوج مملکت کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع میں مدد کرے گی، تاہم یہ کردار یمن کے خلاف کسی حملے تک محدود نہیں ہوگا۔ مصری صدارتی ترجمان نے بدھ کو اس حوالے سے باضابطہ بیان جاری کیا۔ السیسی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے قبل مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس چیف حسن رشاد نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی، جس میں علاقائی صورت حال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مصری صدر نے کہا کہ مصر کسی بھی ایسے عرب ملک کی سرزمین کے دفاع میں مدد کے لیے تیار ہے جو اس سے درخواست کرے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصری فوجی کارروائی مصر یا اس عرب ملک کی سرزمین سے باہر نہیں جائے گی جس کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے مدد طلب کی جائے ۔ مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو دفاعی فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے صدر کو اختیار دینے سے متعلق ووٹنگ 26 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے ۔ آئینی طور پر بیرون ملک فوجی مشن کے لیے قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے ۔ مصر اور سعودی عرب کے درمیان قریبی اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ السیسی نے خلیجی ممالک کی سلامتی کو مصر کی قومی سلامتی سے منسلک قرار دیتے ہوئے عرب قومی سلامتی کو مشترکہ قرار دیا ہے ۔سعودی عرب پہلے سے ہی پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ میں ہے۔