سعودی عرب کا بھی اسرائیل کی جانب جھکاؤ

,

   

Ferty9 Clinic

فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرنے والا عرب ملک یہودیوں کا دوست

لندن: سعودی عرب بھی اب اسرائیل کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ خلیجی ممالک کے تاریخی معاہدہ کے بعد سعودی عرب نے بھی یہودی مملکت کے ساتھ اپنا موقف نرم کرلیا ہے۔ کل تک سعودی حکمراں فلسطینیوں کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاتے تھے، فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم و زیادتیوں پر تنقید کی تاریخ رکھنے والے سعودی عرب نے بالآخر یہودی مملکت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کی پیشرفت شروع کی ہے۔ ماضی میں عرب میڈیا ، اسرائیل کو عالم عرب کا دشمن قرار دیتا تھا، لیکن اب سب کچھ تبدیل ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب بھی دوستی کرلے گا۔ سعودی عرب کے سابق انٹلیجنس سربراہ اور واشنگٹن میں طویل مدت تک سفیر کی خدمت انجام دینے والے پرنس بندر بن سلطان سعود جنہوں نے فلسطینی قائدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے پر فلسطینیوں کے اعتراضات کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قائدین کو اسرائیل اور خلیج عرب کے درمیان ’’امن معاہدہ‘‘ پر تنقید کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ فلسطینی قائدین ، خلیجی ممالک کے خلاف اپنی برہمی ظاہر کررہے ہیں جبکہ ان کا رویہ ناقابل قبول ہے۔