سعودیہ۔ پاک اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے پر ہندوستان کی نظر:وزارت خارجہ

   

دفاعی سرویس کے انجینئرز چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نئی ٹیکنالوجی پر زوردیں:سکریٹری دفاع

نئی دہلی، 18 ستمبر (یو این آئی) ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے اور اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے ۔معاہدے پر میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ، وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان اپنی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی استحکام پر اس پیش رفت کے اثرات کا مطالعہ کرے گا۔ حکومت قومی مفادات کے تحفظ اور تمام شعبوں میں جامع قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔انہوں نے کہا ”ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کی خبریں دیکھی ہیں۔ حکومت کو معلوم تھا کہ یہ پیشرفت، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی معاہدے کو باضابطہ شکل دیتی ہے ، پہلے ہی زیر غور تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی استحکام پر اس پیش رفت کے اثرات کا مطالعہ کریں گے ۔ حکومت ہندوستان کے قومی مفادات کے تحفظ اور تمام شعبوں میں جامع قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔”واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے نناٹو طرز کے باہمی دفاعی اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے مطابق ایک ملک پر حملہ دوسرے کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ نے ہندوستانی دفاعی انجینئر سروس کے افسران سے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظر نامے کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی درخواست کرتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت دفاع نے جمعرات کو کہا کہ سنگھ نے ہندوستانی دفاعی انجینئر سروس کے 76ویں یوم تاسیس پر عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے قومی دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے میں افسران کے کردار کی ستائش کی۔ انہوں نے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے کے پیش نظر ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنے کی درخواست کی اوربدلتے وقت کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب میں وزارت دفاع اور آرمی ہیڈ کوارٹرز کے اعلیٰ سول اور فوجی افسران نے شرکت کی۔دفاعی انجینئر سروس 17 ستمبر 1949 کو قائم کی گئی تھی اور اس نے ہندوستان میں دفاعی انجینئرنگ کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔ ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر تعینات، یہ افسران رہائشی، تکنیکی اور انتظامی عمارتوں سے لے کر ہوائی اڈوں، ہینگرز، نیول پیئرز، اسپتالوں اور فوج، بحریہ، فضائیہ، کوسٹ گارڈ اور ڈی آر ڈی او کے خصوصی مراکز تک دفاعی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔