سن 2000 میں لال قلعہ پر حملہ: سپریم کورٹ نے محمد عارف کی سزائے موت کو برقرار رکھا

   

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے 2000 کے لال قلعہ حملہ کیس میں محمد عارف کی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے جمعرات کو لشکر طیبہ کے ایک دہشت گرد کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں سنہ 2000 کے لال قلعہ حملہ کیس میں سزائے موت دینے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی گئی تھی۔ اس حملے میں دو فوجی اہلکاروں سمیت تین افراد مارے گئے چیف جسٹس ادے امیش للت اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے کہا کہ اس نے درخواست کو “الیکٹرانک ریکارڈ” پر غور کرنے کی اجازت دے دی ہے بنچ نے کہا، “ہم اس درخواست کو قبول کرتے ہیں کہ ‘الیکٹرانک ریکارڈ’ پر غور کیا جائے۔ وہ مجرم ثابت ہو چکا ہے۔ ہم اس عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہیں اور نظرثانی کی درخواست کو خارج کرتے ہیں۔