سنبھل جامع مسجد کے سامنے پولیس چوکی کا افتتاح

   

سنبھل ( یو پی ): سنبھل جامع مسجد کے سامنے تعمیر کردہ نئی پولیس چوکی کا افتتاح اتوار 6 اپریل کو عمل میں آیا۔ اس چوکی کو ’ستیہ ورت‘ کا نام دیا گیا ہے۔یہ پولیس چوکی جامع مسجد سنبھل کے بالکل سامنے تعمیر کی گئی ہے جسے انتظامیہ نے غیر معمولی تیزی کے ساتھ مکمل کروایا ہے۔واضح ہو کہ سنبھل میں 24 نومبر 2024 کو شاہی جامع مسجد میں سروے کے دوران احتجاج کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا اور اس کے کچھ دنوں بعد ہی جامع مسجد کے بالکل سامنے ایک نئی پولیس چوکی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔پولیس اور انتظامیہ نے جامع مسجد کے سامنے والی خالی جگہ کا معائنہ کیا اور پھر نئی پولیس چوکی کا سنگ بنیاد رکھا۔ پولیس چوکی کی تعمیر کا کام 28 دسمبر 2024 کو شروع ہوا۔ پورے 100 دن بعد 6 اپریل 2025 کو پولیس چوکی بن کر تیار ہوئی۔ یہ پولیس چوکی آج سے مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہیہ کہ ’ستیہ ورت‘ پولیس چوکی ضلع کی پہلی ہائی ٹیک پولیس چوکی ہوگی۔ اس پولیس چوکی میں 24 گھنٹے تقریباً 100 پولیس اہلکار تعینات رہیں گے۔ ساتھ ہی اضافی فورس کا بھی انتظام رہے گا۔ ضلع کا کنٹرول روم بھی اسی چوکی میں بنے گا۔کچھ لوگوں نے جہاں نئی پولیس چوکی کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے وہیں مقامی مسلم برادری کے کچھ افراد نے اس تعمیر پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
خاص طور پر زمین کی ملکیت کے حوالے سے کچھ مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جس زمین پر پولیس چوکی بنائی جا رہی ہے وہ ان کی ملکیت ہے اور انہوں نے اپنی زمین کے کاغذات بھی پیش کیے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔حال ہی میں صدر مجلس اسد الدین اویسی نے اس اقدام پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مسلم علاقوں میں اسکول یا ہاسپٹل بنانے کے بجائے پولیس چوکیوں اور شراب خانوں کی تعمیر پر توجہ دے رہی ہے۔ اویسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ پولیس چوکی وقف کی زمین پر بنائی جا رہی ہے اور اس کی تعمیر میں آثار قدیمہ کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔