سوشل میڈیا پر شہرت پانے والی اسکول کی لنگور چل بسی

   

Ferty9 Clinic

طلبہ اور اسکولی اسٹاف غمزدہ، اسکول آمد و رفت کو یاد کرکے طلبہ روپڑے

حیدرآباد 8 ، ستمبر (یو این آئی) آندھراپردیش کے ضلع کرنول کے وینگالم پلی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول میں غم کی لہر دیکھی گئی۔اسکول کے طلبہ اور اسٹاف ارکان مایوس دیکھے گئے ۔کئی طلبہ روپڑے ، ان کا رونا فطری تھا کیونکہ وہ اس سے محروم ہوگئے تھے جو ان کے ساتھی کی طرح تھا۔ان طلبہ کی ساتھی مادہ لنگور جس کو لکشمی کہا جاتا تھا، چل بسی جس کے نتیجہ میں تمام طلبہ اور اسٹاف ارکان غمزدہ نظر آئے ۔گزشتہ ماہ اس لنگور کی ویڈیوز اور تصاویر کی انٹرنیٹ پر بھرمارہوگئی تھی جو روزانہ اسکول کو آتی تھی اور کلاس کے دوران کمرہ جماعت میں بچوں کے ساتھ بیٹھ جایا کرتی، ان کے ساتھ اسکول کے وقفہ کے دوران کھیلاکرتی تھی۔افسوس اس بات کا ہے کہ لکشمی پر آوارہ کتوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں اس کی موت ہوگئی۔اسکول کے صدر مدرس ایس عبداللطیف نے کہا کہ ایک نوجوان نے اس حملہ کے منظر کو دیکھا اور ان کو اس کی اطلاع دی۔جب تک وہ وہاں پہنچتے ان کتوں نے اس لنگور کو ہلاک کردیا تھا۔لطیف کی آواز بھرائی ہوئی تھی کیونکہ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ اپنے ایک پسندیدہ طالب علم سے محروم ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ وہ دس دن سے لکشمی کو نہیں دیکھ پائے تھے ۔دس دن پہلے کوئی لکشمی کو اٹھاکرلے گیا تھا جب ہم وہاں موجود نہیں تھے تاکہ چمن میں بندروں کو خوفزدہ کیا جاسکے ۔ہم پُر امید تھے کہ لکشمی واپس آئے گی۔گزشتہ شب وہ واپس آئی اور صبح میں وہ اسکول بھی آئی تھی اور بعد ازاں چلی گئی۔ہمیں یقین تھا کہ شام میں بھی وہ اسکول کو آئے گی جس کے لئے ہم نے کیلے لانے کا آرڈر دیا تھا تاہم کچھ بھی ہوتا اس سے پہلے یہ خبر ملی کہ اس کو کتوں نے ہلاک کردیا ہے ۔صدر مدرس اور ان کے رفقا کے ساتھ ساتھ گاوں کے نوجوانوں نے گاوں کے نواحی علاقہ میں لکشمی کی چھوٹی سے سمادھی بنائی۔لکشمی کی موت کی خبر ملنے پر اسکول کے کئی طلبہ غمزدہ ہوگئے ۔کئی طلبہ سست ہوگئے ۔دو بچے جو لکشمی کے کافی قریب تھے ، رو رہے ہیں۔صدرمدرس نے کہا کہ لکشمی تمام کے ساتھ دوستانہ ماحول میں رہا کرتی تھی۔اس کے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔بعض اوقات میرے سر اور کبھی میرے کاندھے پربیٹھ جایا کرتی۔انہوں نے کئی یادوں کو تازہ کیا۔وہ بچوں کی کتابوں میں کافی تجسس سے جھانکا کرتی جیسے وہ کتاب پڑھ رہی ہو۔کبھی وہ ان کے میز پر بھی چڑھ جایاکرتی جہاں وہ اس کو کیلے کھلاتے تھے ۔لکشمی ایک سنجیدہ طالبہ کی طرح تھی۔لکشمی کو دیکھنے کے لئے کئی طلبہ اسکول آیا کرتے تھے اور اسکول میں طلبہ کی حاضری کے فیصد میں کمی نہیں ہوتی تھی۔