سوشل میڈیا کو ہراسانی

   

دل جل رہا ہے چھاؤں میں دیوار یار کی
تصویر کھینچ لو ستمِ روزگار کی!
سوشل میڈیا کو ہراسانی
سپریم کورٹ نے آج تریپورہ حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے زبانی الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پر سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے والوں کو ہراساں کر رہی ہے ۔ ویسے بھی مختلف گوشوں کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو نت نئے انداز سے نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں اور خود قومی سطح پر یہ عام تاثر ہے کہ بی جے پی کی حکومتیں کسی بھی مخالفت کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کی انفرادیت رہی ہے کہ یہاں مخالفت کرنے والوں اور ان کی مخالفت کا احترام کیا جاتا تھا ۔ اس کا جواب پوری سنجیدگی اور پروقار انداز میں دیا جاتا تھا لیکن بی جے پی ایسا لگتا ہے کہ جمہوری روایات کو بھی برقرار رکھنے کو تیار نہیں ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ کسی بھی گوشے سے اس کے خلاف کوئی رائے ظاہر کرنے کی ہمت نہ کرنے پائے ۔ اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے والوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنی سابقہ سماعت میں تریپورہ پولیس کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے باز رہنے کو کہا تھا اس کے باوجود پولیس کی جانب سے سپرنٹنڈنٹ سطح کے عہدیدار کے ذریعہ سوشل میڈیا کارکنوں کو نوٹسیں جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ سپریم کورٹ نے اسے ہراسانی قرار دیا اور انتباہ دیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو معتمد داخلہ کو شخصی طور پر حاضر عدالت ہونے کا حکم جاری کردیا جائیگا ۔ تریپورہ میں بی جے پی حکومت ایسے فیصلے کر رہی ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ چیف منسٹر خود بھی ایسے تبصرے اور ریمارکس کرنے کیلئے مشہور ہیں جن کی وجہ سے تنازعات پیدا ہوجاتے ہیں۔ تریپورہ میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر سوشل میڈیا میں پوسٹ کرنے والے وکلاء اور صحافیوں تک کو نہیں بخشا گیا اور حد تو یہ ہوگئی کہ ان کے خلاف انسداد غیر قانونی سرگرمیاں قانون ( یو اے پی اے ) کے سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ یہ ہراسانی نہیں تو پھر کیا ہے ؟ ۔
ماضی میں بی جے پی کی کئی ریاستی حکومتوں کو عدالتوں کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ عدالت نے کئی ریاستوں کی پولیس پر بھی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کو حکومتوں کے اشاروں پر کام نہیں کرنا چاہئے بلکہ پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کرنی چاہئے ۔ بات صرف تریپورہ تک محدود نہیں ہے بلکہ قومی سطح پر بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے ۔ حکومت کے خلاف احتجاج کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا رہا ہے ۔ محض حکومت کی مخالفت کی اساس پر ملک و قوم سے غداری کے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والوںکو قوم مخالف قرار دیا جا رہا ہے ۔ انتہائی سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے ۔ سماجی جہد کار ہوں یا پھر صحافی ہوں ‘ حقوق انسانی کارکن ہوں یا پھر ڈاکٹرس ہوں کسی کو بھی بخشا نہیں جا رہا ہے اور سبھی کے خلاف قانون کا بیجا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ جمہوری اور دستوری حقوق کیلئے اٹھنے والی آوازوں کو دبایا اور کچلا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی تمام ریاستوں میں یہی روش اختیار کی گئی ہے ۔ انصاف کیلئے جدوجہد کرنے والوں اور سماجی جہد کاروں میں اس صورتحال پر بے چینی ہے اور کچھ معاملات میں عدالتیں بھی حکومتوں سے ناراض ہیں۔ ان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بعض مواقع پر سرزنش بھی کرتے ہوئے انہیں ذمہ داریوں کا احساس کروایا جارہا ہے ۔
تریپورہ میں جو فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا وہ انتہائی افسوسناک تھا ۔ اس کے ذریعہ سماج میں نفرت کو ہوا دی گئی ہے ۔ ان فسادات میں اقلیتوں کو انتہاء درجہ تک نشانہ بنایا گیا ۔ ان کی جان و مال کا نقصان ہوا ۔ ان کی املاک کو تباہ کردیا گیا ۔ ان میں خوف پیدا کیا گیا ۔ اس کے بعد مقدمات کے ذریعہ انصاف رسانی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس طرح حکومتیں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے مخالفین کو دبانے کچلنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے اور ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اس سے گریز کرتے ہوئے قانون اور دستور کی حکمرانی کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔