آئندہ ماہ سے عمل آوری، مرکزی محکمہ فینانس سے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی
حیدرآباد۔26۔جون(سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے معاشی انحطاط کا شکار معیشت کے استحکام کے لئے ٹی ڈی ایس کے نام پر ان لوگوں سے بھی ٹیکس وصولی کا فیصلہ کیا ہے جن پر اب تک ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا تھا ۔ مرکزی حکومت کے محکمہ فینانس کے تحت خدمات انجام دینے والے ادارہ سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسس سی بی ڈی ٹی کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ کے مطابق اب سوشل میڈیا پر جو چیانل چلائے جا رہے ہیں یا ان کے ذریعہ آمدنی حاصل کی جا رہی ہے ان پر بھی 10 فیصد ٹیکس وصول کرنے منصوبہ تیار کیا جاچکا ہے اور ٹی ڈی ایس کے نام پر وصول کئے جانے والے ٹیکس میں ڈاکٹرس ‘ سوشل میڈیاپر موجود بااثر شخصیات شامل ہوں گے جنہیں یکم جولائی سے اس دائرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سی بی ڈی ٹی نے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں ان کے مطابق تجارتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ایسے تاجرین جن کا سالانہ لین دین 1کروڑ روپئے تک ہے وہ اور ان کے علاوہ ایسے پروفیشنلس جن کا لین دین سالانہ 50لاکھ ہے ان کو ٹی ڈی ایس کی شکل میں 10 فیصد ادا کرنے ہوں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ ڈاکٹر اور سوشل میڈیا پر تشہیر کے لئے کام کرنے والوں کو کمپنیوں اور اداروں کی جانب سے جو آلات فراہم کئے جاتے ہیں انہیں یکم جولائی سے 10فیصد ٹی ڈی ایس ادا کرنا ہوگا کیونکہ سی بی ڈی ٹی کے نئے رہنمایانہ خطوط کے مطابق یہ شخصیات کو حاصل ہونے والے فوائد بشکل ادائیگی ہیں اسی لئے ان پر ٹی ڈی ایس وصول کیا جانا چاہئے ۔کمپنی کے ملازمین کومفت رہائش کا انتظام ‘ تحفہ تحائف ‘ملازمین کو مفت فراہم کی جانے والی سہولتوں پر یہ ٹیکس عائد نہیں کیاجائے گا جس سے کمپنی اور ملازمین دونو ںکو فائدہ حاصل ہوگا۔سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے والوں کو اب یہ دیکھنا چاہئے کہ انہیں تشہیر کے لئے دیئے جانے والے اشیاء اور آلات کے متعلق اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ سے مشاورت کرلیں تاکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوکہ آیا اس پر ٹی ڈی ایس کے نام پرٹیکس عائد ہوگا یا نہیں کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں اور روایتی انداز میں 20 ہزار سے زائد مالیت کی تشہیر کے لئے وہ آلات اور اشیاء حاصل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے خلاف کاروائی کی گنجائش موجود رہے گی۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر تشہیر کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے محکمہ فینانس نے سی بی ڈی ٹی ‘ انکم ٹیکس کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں سے مشاورت کے بعد یہ رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں۔م