سوشیل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ تبصروں کو روکنے اقدامات

   

حکومت سے قانون سازی کی تجویز، مرکزی وزیر آئی ٹی اشونی ویشنو
حیدرآباد۔19۔جون(سیاست نیوز) سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی من مانی خبروں اور تبصروں پر قد غن لگانے کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے قانون سازی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔مرکزی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی اشونی ویشنو نے گذشتہ یوم اپنے بیان میں کہا تھا کہ مرکزی حکومت جلد ہی سوشل میڈیا پر جاری غیر ذمہ دارانہ تبصروں کو روکنے کے لئے اقدامات کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو قابل اعتبار اور جوابدہ بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہاہے۔مرکزی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کو آزادانہ صحافت پر ضرب قرار دیا جارہا ہے اور کہا جار ہاہے کہ سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک‘ یوٹیوب کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمس پر کئے جانے والے مخالف حکومت تبصروں کو روکنے کے اقدامات کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ قومی سطح پر چلائے جانے والے ذرائع ابلاغ اداروں پر سرمایہ دارانہ نظام کے قبضہ اور گودی میڈیا کی جانب سے چلائے جانے والے پروپگنڈہ کے سبب کو دیکھتے ہوئے کئی سرکردہ صحافیوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں کو منظر عام پر لانا شروع کیا تھا اور حکومت کے اقدامات پر آزادانہ تبصرے کئے جا رہے تھے لیکن اب حکومت ہند نے اس سلسلہ میں قانون سازی کی حکمت عملی تیار کی ہے اورکہا جا رہاہے قومی سطح پر آئی ٹی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ سوشل میڈیا پر کنٹرول حاصل کرلی جائے گی۔ مرکزی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اپنے بیان کہا کہ دنیا بھر کے کئی ممالک میں سوشل میڈیا کے لئے رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے انہیں جوابدہ بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شعبہ جات کو جوابدہ بنائیں اور انہیں حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایت کے مطابق وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو جوابدہ بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس او ر انفارمیشن ٹکنالوجی کے قوانین میں ترمیم اور نئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کی آئی ٹی کمپنیاں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذمہ دار مخالف ہیں لیکن مرکزی حکومت کا کہناہے کہ کوئی بھی صنعت اور شعبہ نئے اصلاحات کے لئے آمادہ نہیں ہوتا لیکن حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ رہنمایانہ خطوط کی اجرائی اور اصلاحات کے عمل کے ذریعہ بہتری لانے کے اقدامات کرے۔ آزادانہ صحافت سے وابستہ سرکردہ افراد کا کہناہے کہ ان کوششوں کے ذریعہ آواز کو دبائی جا رہی ہے۔