واشنگٹن : سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے کسی دیر پا حل یا مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کیلئے بین الاقوامی اور علاقائی کوششیں جاری ہیں، جب کہ سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان مسلسل تیرہویں روز بھی لڑائیاں اور جھڑپیں جاری رہی۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کے ساتھ واشنگٹن میں وزارت کے ہیڈکوارٹر سے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کا ملک اس مسئلے کے حل تک پہنچنے کیلئے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اہم بات سوڈانی بحران کو ختم کرنا اور ملک کو واپس سویلین حکومت کے حوالے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بحران سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ مستقل جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔امریکی وزیرخارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک سوڈان میں اقتدار سویلین کو منتقل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کوشش کرتا رہے گا انہوں نے کہا کہ “ہمیں امید ہے کہ ہم ملک کو سویلین زیرقیادت حکومت میں واپس کر سکتے ہیں۔”بلنکن نے کہا کہ ان کا ملک سوڈان میں تنازع کے فریقین کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کیلئے سخت محنت کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ “ہم عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں فوج اور محمد حمدان دقلو کی قیادت میں سریع الحرکت فورسز کے درمیان جنگ بندی کو وسعت دینے کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں۔