نئی دہلی: سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کو لے کر مرکز اور سپریم کورٹ آمنے سامنے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کالجیم کی سفارش کے باوجود ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری نہ کرنے پر مرکزی حکومت کی سخت سرزنش کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مرکز کی طرف سے ناموں کو زیر التواء رکھنا قابل قبول نہیں ہے۔ حکومت نہ تو ناموں کا تعین کرتی ہے اور نہ ہی اپنے اعتراضات کے بارے میں بتاتی ہے۔ حکومت کے پاس 10 نام بھی زیر التوا ہیں، جن کا سپریم کورٹ کالجیم نے اعادہ کیا ہے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے سیکرٹری قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے درحقیقت، سپریم کورٹ نے کالجیم کی طرف سے تجویز کردہ ججوں کے ناموں کو منظور کرنے میں مرکز کی تاخیر کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کی۔ اس دوران سینئر ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے کہا کہ جسٹس دیپانکر دتہ کے نام کی تجویز کو 5 ہفتے ہوچکے ہیں اور ان دنوں میں منظوری ملنی چاہئے تھی۔ جسٹس سنجے کول نے کہا کہ یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔